hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5710

.

الطحاوي

5710
Al Tahawi
۵۷۰۹: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَامّ عَنْ حُصَیْنٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : سَمِعْت النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ : أَعْطَانِیْ أَبِیْ عَطِیَّۃً فَقَالَتْ أُمِّیْ عَمْرَۃُ بِنْتُ رَوَاحَۃَ لَا أَرْضَیْ حَتّٰی تُشْہِدَ مِنَ الْأَشْہَادِ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَأَتَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنِّیْ قَدْ أَعْطَیْتُ ابْنِیْ مِنْ عَمْرَۃَ عَطِیَّۃً وَاِنِّیْ أُشْہِدُک .قَالَ أَکُلَّ وَلَدِک أَعْطَیْتُ مِثْلَ ہَذَا ؟ قَالَ لَا قَالَ : فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَاعْدِلُوْا بَیْنَ أَوْلَادِکُمْ .فَلَیْسَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَہٗ بِرَدِّ الشَّیْئِ وَاِنَّمَا فِیْہِ الْأَمْرُ بِالتَّسْوِیَۃِ .
٥٧٠٩: شعبی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر (رض) کو فرماتے سنا میرے والد نے مجھے عطیہ عنایت فرمایا میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا میں تو اس کو اس وقت پسند کروں گی جب کہ تم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر گواہ بناؤ۔ وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور کہا میں نے اپنی بیوی عمرہ کے بیٹے کو عطیہ دیا ہے اور میں اس پر آپ کو گواہ بناتا ہوں آپ نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو اسی طرح کا عطیہ دیا ہے میں نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے مابین برابری کرو۔ اس روایت میں بھی یہ موجود نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عطیہ کو واپس لینے کا حکم فرمایا ہو بلکہ اس میں صرف برابری کا حکم فرمایا ہے۔
تخریج : بخاری فی الہبہ باب ١٢‘ مسلم فی الہبات ١٣‘ نسائی فی النحل باب ١‘ مسنداحمد ٤؍٢٧٥۔
اس روایت میں بھی یہ موجود نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عطیہ کو واپس لینے کا حکم فرمایا ہو بلکہ اس میں صرف برابری کا حکم فرمایا ہے۔