۵۷۱۰: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ قَالَ : ثَنَا مُرَجّٰی قَالَ : ثَنَا دَاوٗدَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ : انْطَلَقَ بِیْ أَبِیْ یَحْمِلُنِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اشْہَدْ أَنِّیْ قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِیْ کَذَا وَکَذَا .فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَکُلَّ وَلَدِک نَحَلْتُہٗ قَالَ : لَا قَالَ أَمَا یَسُرُّک أَنْ یَکُوْنُوْا لَک فِی الْبِرِّ سَوَائً .قَالَ : بَلَی قَالَ فَلَا اِذًا .فَقَدْ اخْتَلَفَ لَفْظُ حَدِیْثِ دَاوٗدَ ہَذَا فِیْمَا رَوٰی عَنْہُ مُرَجَّیْ ہٰہُنَا وَبِمَا رَوٰی عَنْہُ وُہَیْبٌ فِیْمَا قَدْ تَقَدَّمَ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ وَہٰکَذَا رَوَاہُ الشَّعْبِیُّ عَنِ النُّعْمَانِ وَقَدْ رَوَاہُ أَبُو الضُّحٰی عَنِ النُّعْمَانِ أَیْضًا .
٥٧١٠: شعبی نے نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے اٹھا کر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے گئے اور کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو عطیہ دیا ہے انھوں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بات تمہیں پسند ہے کہ وہ تیرے ساتھ احسان میں برابر ہوں۔ اس نے کہا کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا۔ پھر ایسا مت کرو۔ داؤد کی اس روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں جو اس سے مرجی سے یہاں روایت کی ہے اور جو اس نے وہیب سے روایت کی جو کہ گزری اسی طرح شعبی نے نعمان سے روایت کی ہے اور ابوالضحیٰ نے نعمان سے بھی روایت کی ہے۔
تخریج : مسلم فی الفرائض ٣٤‘ والہبات ١٧‘ نسائی فی النحل باب ١‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ١‘ مسند احمد ٤؍٢٦٩۔