۵۷۱۲: وَحَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا فِطْرٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو الضُّحَی قَالَ سَمِعْت النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ : ذَہَبَ بِیْ أَبِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُشْہِدَہُ عَلٰی شَیْئٍ أَعْطَانِیْہِ .فَقَالَ أَلَکَ وَلَدٌ غَیْرُہٗ؟ قَالَ : نَعَمْ فَقَالَ بِیَدِہِ أَلَا سَوَّیْتَ بَیْنَہُمْ .فَلَمْ یُخْبِرْ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ أَمَرَ بِرَدِّہِ .وَاِنَّمَا قَالَ أَلَا سَوَّیْتُ بَیْنَہُمْ عَلَی طَرِیْقِ الْمَشُوْرَۃِ وَأَنَّ ذٰلِکَ لَوْ فَعَلَہُ کَانَ أَفْضَلَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ قِصَّۃِ النُّعْمَانِ ہَذَا خِلَافُ کُلِّ مَا رَوَیْنَا عَنِ النُّعْمَانِ .
٥٧١٢: ابوالضحیٰ کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر (رض) کو فرماتے سنا کہ میرے والد مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے گئے تاکہ وہ اس چیز پر آپ کو گواہ بنائیں جو انھوں نے مجھے دی تھی تو وہ کہنے لگے کیا تمہارا اور بھی لڑکا ہے اس نے کہا جی ہاں۔ تو آپ نے اپنے دست اقدس سے فرمایا تم ان کے مابین برابری کیوں نہیں کرتے۔ پس اس روایت میں اس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ آپ نے ان کو واپس کرنے کا حکم فرمایا بس اتنی بات فرمائی کہ تم ان کے مابین برابری کیوں کر نہیں کرتے یہ بطور مشورہ فرمایا۔ کیونکہ ایسا کرنا زیادہ بہتر و افضل تھا۔
روایت جابر بن عبداللہ (رض) :
حضرت جابر (رض) کی روایت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واقعہ نعمان کے سلسلہ میں اس کے خلاف ہے۔ ملاحظہ ہو۔