۵۷۱۳: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا النُّفَیْلُ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زُبَیْرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَتِ امْرَأَۃُ بَشِیْرٍ لِبَشِیْرٍ انْحَلْ ابْنِیْ غُلَامَکَ وَأَشْہِدْ لِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ .قَالَ : فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ بِنْتَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِیْ أَنْ أَنْحَلَ ابْنَہَا غُلَامِیْ وَقَالَتْ أَشْہِدْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَقَالَ أَلَہٗ اِخْوَۃٌ قَالَ : نَعَمْ قَالَ أَفَکُلُّہُمْ أَعْطَیْتُہٗ قَالَ : لَا قَالَ فَاِنَّ ہَذَا لَا یَصْلُحُ وَاِنِّیْ لَا أَشْہَدُ اِلَّا عَلٰی حَقٍّ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا کَانَ أَمْرُہٗ لِبَشِیْرٍ بِالرَّدِّ قَبْلَ اِنْفَاذِ بَشِیْرٍ الصَّدَقَۃَ فَأَشَارَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ بِمَا ذَکَرْنَا .وَہٰذَا خِلَافُ جَمِیْعِ مَا رُوِیَ عَنِ النُّعْمَانِ لِأَنَّ فِیْ تِلْکَ الْأَحَادِیْثِ أَنَّہٗ نَحَلَہٗ قَبْلَ أَنْ یَجِیْئَ بِہٖ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَّہٗ قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ نَحَلْتُ ابْنِیْ ہَذَا کَذَا فَأَخْبَرَ أَنَّہٗ قَدْ کَانَ فَعَلَ .وَفِیْ حَدِیْثِ جَابِرٍ ہَذَا اِخْبَارُہُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسُؤَالِ امْرَأَتِہِ اِیَّاہُ فَکَانَ کَلَامُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہُ بِمَا کَلَّمَہُ بِہٖ عَلٰی طَرِیْقِ الْمَشُوْرَۃِ وَعَلٰی مَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُفْعَلَ عَلَیْہِ الشَّیْئُ اِنْ آثَرَ أَنْ یَفْعَلَہٗ۔وَقَدْ رَوٰی شُعَیْبُ بْنُ أَبِیْ حَمْزَۃَ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنِ الزُّہْرِیِّ مُوَافِقًا لِہٰذَا الْمَعْنٰی .
٥٧١٣: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت بشیر (رض) کی ایک بیوی نے کہا میرے بیٹے کو اپنا غلام بطور عطیہ دے دو اور اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گواہ بنا لو۔ جابر (رض) کہتے ہیں کہ وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں کی بیٹی نے مجھ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام دے دوں اور وہ کہتی ہے کہ اس پر آپ کی گواہی ڈلواؤں۔ آپ نے فرمایا کیا اس کے اور بھائی ہیں اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا کیا تم نے سب کو عطیہ دیا ہے انھوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا یہ مناسب نہیں۔ میں تو خالص حق بات پر گواہ بنتا ہوں۔ یہ روایت بتلاتی ہے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات بشیر کو فرمائی کہ ایسا مت کرو یہ بشیر کے عطیہ دینے سے پہلے کی بات ہے آپ نے اس میں اعلیٰ کی طرف اشارہ فرمایا اور یہ روایت نعمان سے مروی تمام روایات کے خلاف ہے کیونکہ ان روایات میں یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں آنے سے پہلے عطیہ کردیا تھا اور ان کے الفاظ یہ تھے : ” انی نحلت “ جس نے فعل عطیہ کا ثبوت ملتا ہے اور روایت جابر (رض) سے معلوم ہوتا کہ بیوی کے سوال کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشورہ طلب کیا تو آپ نے بطریق مشورہ فرمایا اور جو کرنا مناسب تھا وہ بتلایا اگر وہ ترجیح دینا چاہتا ہو۔
تخریج : مسلم فی الہبات ١٩‘ مسند احمد ٣؍٣٢٦۔
روایت زہری عن روایت نعمان (رض) :
شعیب بن ابی حمزہ نے اس روایت کو زہری سے روایت جابر (رض) کی طرح نقل کیا ہے ملاحظہ ہو۔