hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5747

.

الطحاوي

5747
Al Tahawi
۵۷۴۶: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَمِّی قَالَ : حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمَالِہِ بِثَمْغٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْ بِہٖ تَقْسِمُ ثَمَرَہُ وَتَحْبِسُ أَصْلَہٗ لَا تُبَاعُ وَلَا تُوْہَبُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا أَوْقَفَ دَارِہِ عَلَی وَلَدِہِ وَوَلَدِ وَلَدِہِ ثُمَّ مَنْ بَعْدَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَنَّ ذٰلِکَ جَائِزٌ وَأَنَّہَا قَدْ خَرَجَتْ بِذٰلِکَ مِنْ مِلْکِہِ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا سَبِیْلَ لَہٗ بَعْدَ ذٰلِکَ اِلٰی بَیْعِہَا وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَمِمَّنْ قَالَ بِذٰلِکَ أَبُوْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمَا وَہُوَ قَوْلُ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَأَہْلِ الْبَصْرَۃِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ مِنْہُمْ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ وَزُفَرُ بْنُ الْہُذَیْلِ رَحِمَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِمَا فَقَالُوْا : ہٰذَا کُلُّہُ مِیْرَاثٌ لَا یَخْرُجُ مِنْ مِلْکِ الَّذِی أَوْقَفَہُ بِہٰذَا السَّبَبِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا شَاوَرَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ فِیْ ذٰلِکَ قَالَ لَہٗ حَبِّسْ أَصْلَہَا وَسَبِّلْ الثَّمَرَۃَ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ مَا أَمَرَہٗ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ یَخْرُجُ بِہٖ مِنْ مِلْکِہِ وَیَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ لَا یُخْرِجُہَا مِنْ مِلْکِہِ وَلٰـکِنَّہَا تَکُوْنُ جَارِیَۃً عَلٰی مَا أَجْرَاہَا عَلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ مَا تَرَکَہَا وَیَکُوْنُ لَہٗ فَسْخُ ذٰلِکَ مَتَی شَائَ .کَرَجُلٍ جَعَلَ لِلّٰہِ عَلَیْہِ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِثَمَرَۃِ نَخْلِہِ مَا عَاشَ فَیُقَالُ لَہٗ : أَنْفِذْ ذٰلِکَ وَلَا یُجْبَرُ عَلَیْہِ وَلَا یُؤْخَذُ بِہٖ اِنْ شَائَ وَاِنْ أَبَی .وَلٰـکِنْ اِنْ أَنْفَذَ ذٰلِکَ فَحَسَنٌ وَاِنْ مَنَعَہُ لَمْ یُجْبَرْ عَلَیْہِ .وَکَذٰلِکَ وَرَثَتُہُ مِنْ بَعْدِہِ اِنْ أَنَفَذُوْا ذٰلِکَ عَلٰی مَا کَانَ أَبُوْھُمْ أَجْرَاہُ عَلَیْہِ فَحَسَنٌ وَاِنْ مَنَعُوْھُ کَانَ ذٰلِکَ لَہُمْ .وَلَیْسَ فِیْ بَقَائِ حَبْسِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ اِلَی غَایَتِنَا ہٰذِہِ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ لِأَحَدٍ مِنْ أَہْلِہِ نَقْضُہُ .وَاِنَّمَا الَّذِیْ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہٗ لَیْسَ لَہُمْ نَقْضُہُ لَوْ کَانُوْا خَاصَمُوْا فِیْہِ بَعْدَ مَوْتِہِ فَمُنِعُوْا مِنْ ذٰلِکَ .وَلَوْ جَازَ ذٰلِکَ لَکَانَ فِیْہِ الْعُمْرَی مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ الْأَوْقَافَ لَا تُبَاعُ .وَلٰـکِنْ اِنَّمَا جَائَ نَا تَرْکُہُمْ لِوَقْفِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ یَجْرِیْ عَلٰی مَا کَانَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ أَجْرَاہُ عَلَیْہِ فِیْ حَیَاتِہٖ وَلَمْ یَبْلُغْنَا أَنَّ أَحَدًا مِنْہُمْ عَرَضَ فِیْہِ بِشَیْئٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہٗ قَدْ کَانَ لَہٗ نَقْضُہُ
٥٧٤٦: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ عمر (رض) نے اپنے مال کے صدقہ کرنے کے متعلق جو مقام ثمغ میں تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو اس طرح صدقہ کر دو کہ اس کا پھل تقسیم کیا جائے گا اور اصل اسی طرح برقرار رہے گا وہ نہ فروخت کیا جاسکے گا اور نہ ہبہ کیا جائے گا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا خیال یہ ہے کہ جب کسی نے اپنی اولاد ‘ بیٹے ‘ پوتوں پر ایک گھر وقف کردیا پھر ان کے بعد اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کردیا۔ تو یہ درست ہے اب وہ ان کی ملک سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی طرف منتقل ہوگیا اس کو فروخت کرنے کی کوئی سبیل نہیں جیسا کہ مندرجہ بالا آثار سے معلوم ہوتا ہے یہ امام ابو یوسف ‘ محمد ‘ اہل مدینہ ‘ اہل بصرہ رحمہم اللہ کا قول ہے۔ دوسروں نے کہا یہ سب میراث ہے اس سب سے واقف کی ملک سے نہ نکلے گا اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر نے آپ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا اس کے اصل کو روک لو اور اس کے پھل کو وقف کر دو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو بات فرمائی اس سے جہاں اس سے یہ مراد لینا جائز ہے کہ وہ اس کی ملک سے نکل جائے گی وہاں یہ بھی جائز ہے کہ ایسا کرنے سے یہ اس کی ملک سے خارج نہ ہو لیکن وہ اس طریقہ پر جاری ہوئی جس پر انھوں نے اسے جاری کیا اور جب وہ چاہیں اس کو فسخ کرنے کا ان کو حق حاصل ہے۔ جس طرح وہ آدمی جس نے اپنی زندگی تک اپنے درخت کھجور کا پھل اللہ تعالیٰ کے وقف کیا ہے اسے کہا جائے گا اس کو نافذ کرو۔ مگر اس پر جبر نہ کیا جائے گا اور نہ اس پر کوئی مواخذہ کیا جائے گا خواہ دے یا انکار کرے۔ لیکن اگر اس نے اس کو نافذ کیا تو بہت خوب کیا اور اگر روک لیا تو اس پر جبر نہیں۔ اسی طرح اس کے ورثاء کا بھی یہی حکم ہے اگر وہ اس کو اپنے والد کے طریقہ پر جاری رکھیں تو خوب ہے اور اگر روک لیں تو اس کا ان کو اختیار ہے۔ باقی حضرت عمر (رض) کے وقف کے ہمارے زمانہ تک باقی رہنے میں یہ کوئی دلیل نہیں کہ ان کے ورثاء کو اس کے توڑنے کا حق حاصل نہ تھا وقف کو توڑنے کا اختیار نہ ہونے کی دلیل تب ہوتی جبکہ آپ کی وفات کے بعد وہ جھگڑا کرتے اور اس سے ان کو منع کیا جاتا اگر ایسا ہوتا تو یہ عمریٰ ہوجاتا جو اس بات پر دلالت کرتا کہ اوقاف کو فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ہمارے سامنے جو روایات ہیں ان میں صرف یہ بات ہے کہ حضرت عمر (رض) کے وقف کو اسی حال پر چھوڑا گیا تاکہ اسی طرح جاری رہے جس طرح حضرت عمر (رض) اپنی زندگی میں اس کو جاری کر گئے تھے ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ ان میں سے کسی نے بھی اعتراض کیا ہو اور حضرت عمر (رض) سے یہ روایت بھی وارد ہے کہ آپ کو اس کے توڑنے کا اختیار تھا۔
حضرت عمر (رض) سے توڑنے کے اختیار والی روایت :