۵۷۴۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : لَوْلَا أَنِّیْ ذٰکَرْتُ صَدَقَتِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ نَحْوِ ہٰذَا لَرَدَدْتُہَا .فَلَمَّا قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ ہٰذَا دَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ نَفْسَ الْاِیقَافِ لِلْأَرْضِ لَمْ یَکُنْ یَمْنَعُہٗ مِنِ الرُّجُوْعِ فِیْہَا وَأَنَّہٗ اِنَّمَا مَنَعَہُ مِنِ الرُّجُوْعِ فِیْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَہُ فِیْہَا بِشَیْئٍ وَفَارَقَہُ عَلَی الْوَفَائِ بِہٖ فَکَرِہَ أَنْ یَرْجِعَ عَنْ ذٰلِکَ کَمَا کَرِہَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ أَنْ یَرْجِعَ بَعْدَ مَوْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ الَّذِیْ کَانَ فَارَقَہُ عَلَیْہِ أَنْ یَفْعَلَہٗ وَقَدْ کَانَ لَہٗ أَنْ لَا یَصُوْمَ .ثُمَّ ہٰذَا شُرَیْحٌ وَہُوَ قَاضِیْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِی الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ قَدْ رُوِیَ عَنْہٗ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٧٤٧: ابن شہاب نے حضرت عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ اگر میں نے اپنے صدقہ کا تذکرہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ کیا ہوتا یا اس قسم کی بات فرمائی تو میں اس کو واپس لوٹا لیتا۔ جب حضرت عمر (رض) نے یہ بات فرمائی تو اس سے اس بات پر دلالت مل گئی کہ زمین کو فقط وقف کردینے سے اس کا حق رجوع ختم نہیں ہوتا۔ آپ کو رجوع سے اس بات نے روکا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو ایک بات کا حکم فرمایا اور آپ ان سے اس حالت میں جدا ہوئے کہ وہ اسے پورا کرنے والے تھے تو اس وجہ سے آپ نے اس کو واپس لینا ناپسند کیا جیسا کہ حضرت ابن عمر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ان صیام سے رجوع پسند نہ کیا جنہیں وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدائی کے وقت رکھا کرتے تھے۔ حالانکہ آپ کو روزہ نہ رکھنے کا اختیار تھا۔ پھر یہ قاضی شریح ہیں جو حضرت عمر ‘ عثمان و علی (رض) کے زمانہ میں ان کی طرف سے قاضی رہے ان کا ارشاد سنئے۔
قاضی شریح (رح) کا قول :