۵۷۴۸: مَا قَدْ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : سَأَلْت شُرَیْحًا عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ دَارِہِ حَبْسًا عَلَی الْآخَرِ فَالْآخَرُ مِنْ وَلَدِہِ فَقَالَ : اِنَّمَا أَقْضِی وَلَسْتُ أُفْتِی قَالَ : فَنَاشَدْتُہٗ فَقَالَ : لَا حَبْسَ عَلَی فَرَائِضِ اللّٰہِ .وَہٰذَا لَا یَسَعُ الْقُضَاۃَ جَہْلُہُ وَلَا یَسَعُ الْأَئِمَّۃَ تَقْلِیْدُ مَنْ یَجْہَلُ مِثْلَہٗ۔ثُمَّ لَا یُنْکِرُ ذٰلِکَ عَلَیْہِ مُنْکِرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا مِنْ تَابِعِیہِمْ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ۔
٥٧٤٨: عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے شریح (رح) سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے اپنا مکان دوسرے شخص کو وقف کردیا اور وہ دوسرا آدمی اس کی اولاد سے ہے تو انھوں نے فرمایا اس کے متعلق میں فیصلہ کرتا ہوں فتویٰ نہیں دیتا۔ عطاء کہتے ہیں میں نے ان کو قسم دی تو فرمانے لگے اللہ تعالیٰ کے فرائض (احکام توریث) اترنے کے بعد اولاد پر وقف نہیں ہوتا اور اس بات سے قاضیوں کو جاہل رہنے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ائمہ مقتدیٰ کے لیے گنجائش ہے کہ وہ ایسے جاہل شخص کی پیروی کریں پھر شریح (رح) کی اس بات کا صحابہ کرام (رض) اور تابعین (رح) نے انکار نہیں کیا۔
مزید برآں حضرت ابن عباس (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔