hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5754

.

الطحاوي

5754
Al Tahawi
۵۷۵۳: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِیْ زَائِدَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الظَّہْرُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہِ اِذَا کَانَ مَرْہُوْنًا وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ بِنَفَقَتِہِ اِذَا کَانَ مَرْہُوْنًا .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ لِلرَّاہِنِ أَنْ یَرْکَبَ الرَّہْنَ بِحَقِّ نَفَقَتِہِ عَلَیْہِ وَیَشْرَبَ لَبَنَہُ أَیْضًا بِحَقِّ نَفَقَتِہِ عَلَیْہِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَیْسَ لِلرَّاہِنِ أَنْ یَرْکَبَ الرَّہْنَ وَلَا یَشْرَبَ لَبَنَہُ وَہُوَ رَہْنٌ مَعَہٗ وَلَیْسَ لَہٗ أَنْ یَنْتَفِعَ مِنْہُ بِشَیْئٍ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی أَنَّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ الَّذِی احْتَجُّوْا بِہٖ حَدِیْثٌ مُجْمَلٌ لَمْ یُبَیِّنْ فِیْہِ مَنِ الَّذِیْ یَرْکَبُ وَیَشْرَبُ اللَّبَنَ ؟ فَمِنْ أَیْنَ جَازَ لَہُمْ أَنْ یَجْعَلُوْھُ الرَّاہِنَ دُوْنَ أَنْ یَجْعَلُوْھُ الْمُرْتَہِنَ ؟ ہٰذَا لَا یَکُوْنُ لِأَحَدٍ اِلَّا بِدَلِیْلٍ یَدُلُّہُ عَلٰی ذٰلِکَ اِمَّا مِنْ کِتَابٍ .أَوْ سُنَّۃٍ أَوْ اِجْمَاعٍ .وَمَعَ ذٰلِکَ فَقَدْ رَوَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثَ ہُشَیْمٌ وَبَیَّنَ فِیْہِ مَا لَمْ یُبَیِّنْ یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ .
٥٧٥٣: شعبی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ مرہونہ جانور پر اس کے خرچہ کے بدلے سواری کرنا اور دودھ والے جانور کے خرچہ کے عوض اس کا دودھ دوہنا ‘ پینا جائز ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ رہن رکھنے والے کو مرہونہ چیز پر خرچے کے عوض سواری کرنا اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا رہن رکھنے والے کو مرہونہ جانور پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اس شئی سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔ جس حدیث سے استدلال کیا گیا وہ مجمل ہے اس میں وضاحت نہیں ہے کہ سواری کس کو جائز ہے اور دودھ کون پی سکتا ہے فریق اول کو یہ حق نہیں کہ اس نفع اٹھانے والے سے راہن مراد لیں اور مرتہن قرار نہ دیں۔ کوئی شخص بھی کسی ایسی دلیل کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا جو اس بات پر صاف دلالت کرے خواہ وہ دلیل قرآن مجید سے ہو یا حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یا اجماع امت سے۔ اس روایت کو ہشیم نے اپنی سند سے بیان کیا اور اس میں وہ وضاحت ذکر کی جو کہ یزید بن ہارون نے ذکر نہیں کی۔ روایت ہشیم یہ ہے۔
تخریج : بخاری فی الرہن باب ٤‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٧٦‘ ترمذی فی البیوع باب ٣١‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٢‘ مسند احمد ٢‘ ٢٢٨؍٤٧٢۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ رہن رکھنے والے کو مرہونہ چیز پر خرچے کے عوض سواری کرنا اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : رہن رکھنے والے کو مرہونہ جانور پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اس شئی سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔
فریق اول کی دلیل کا جواب نمبر 1: جس حدیث سے استدلال کیا گیا وہ مجمل ہے اس میں وضاحت نہیں ہے کہ سواری کس کو جائز ہے اور دودھ کون پی سکتا ہے فریق اول کو یہ حق نہیں کہ اس نفع اٹھانے والے سے راہن مراد لیں اور مرتہن قرار نہ دیں۔ کوئی شخص بھی کسی ایسی دلیل کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا جو اس بات پر صاف دلالت کرے خواہ وہ دلیل قرآن مجید سے یا حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یا اجماع امت سے۔
نمبر 2: اس روایت کو ہشیم نے اپنی سند سے بیان کیا اور اس میں وہ وضاحت ذکر کی جو کہ یزید بن ہارون نے ذکر نہیں کی۔ روایت ہشیم ملاحظہ ہو۔
نمبر 1: مرہونہ جانور کا خرچہ دے کر اس پر سواری وغیرہ کی جاسکتی ہے اس قول کو امام اسحاق ‘ احمد رحمہما اللہ نے اختیار کیا ہے۔ نمبر 2: امام ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ شافعی ‘ جمہور علماء رحمہم اللہ کے ہاں مرتہن مرہونہ شئی سے نفع حاصل نہیں کرسکتا۔
تخریج : البذل ج ٤ ٢٩٤‘ استعلیق ج ٣‘ ٣٣٦۔
فریق اول کا قول : راہن کو مرہونہ شئی اگر جانور ہو تو اس پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا اس خرچہ کے عوض جو اس پر کیا جائے جائز ہے۔ یہ روایت اس کی دلیل ہے۔