۵۷۵۴: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَالِمٍ السَّائِغُ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِذَا کَانَتْ الدَّابَّۃُ مَرْہُوْنَۃً فَعَلَی الْمُرْتَہِنِ عَلَفُہَا وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ وَعَلَی الَّذِیْ یَشْرَبُ نَفَقَتُہَا وَیَرْکَبُ .فَدَلَّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ أَنَّ الْمَعْنِیَّ بِالرُّکُوْبِ وَشُرْبِ اللَّبَنِ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ ہُوَ الْمُرْتَہِنُ لَا الرَّاہِنُ فَجَعَلَ ذٰلِکَ لَہٗ وَجُعِلَتْ النَّفَقَۃُ عَلَیْہِ بَدَلًا مِمَّا یَتَعَوَّضُ مِنْہُ مِمَّا ذَکَرْنَا .وَکَانَ ہٰذَا عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - فِیْ وَقْتِ مَا کَانَ الرِّبَا مُبَاحًا وَلَمْ یُنْہَ حِیْنَئِذٍ عَنِ الْقَرْضِ الَّذِیْ یَجُرُّ مَنْفَعَۃً وَلَا عَنْ أَخْذِ الشَّیْئِ بِالشَّیْئِ وَاِنْ کَانَا غَیْرَ مُتَسَاوِیَیْنِ ثُمَّ حُرِّمَ الرِّبَا بَعْدَ ذٰلِکَ وَحُرِّمَ کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا وَأَجْمَعَ أَہْلُ الْعِلْمِ أَنَّ نَفَقَۃَ الرَّہْنِ عَلَی الرَّاہِنِ لَا عَلَی الْمُرْتَہِنِ وَأَنَّہٗ لَیْسَ لِلْمُرْتَہِنِ اسْتِعْمَالُ الرَّہْنِ .فَمَا رُوِیَ فِیْ نَسْخِ الرِّبَا
٥٧٥٤: ہشیم عن زیادہ عن شعبی انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب جانور مرہونہ نہ ہو تو مرتہن کے ذمہ اس کا چارہ ہے اور وہ اس کے دودھ کو استعمال کرسکتا ہے اور خرچہ اس کے ذمہ ہے جو دودھ استعمال کرے وہ سواری کرسکتا ہے اور اس پر اس جانور کا خرچہ ہے۔ اس حدیث سے یہ دلالت مل گئی کہ پہلی روایت میں سوار ہونے دودھ پینے اور نفع اٹھانے کا حکم مرتہن کے لیے ہے۔ راہن کے لیے نہیں اس بات کی اجازت بھی اسی کو دی گئی اور خرچہ بھی اسی پر لازم کیا گیا جو کہ اس کے نفع اٹھانے کا عوض ہے۔ ہمارے ہاں یہ حرمت ربا سے پہلے کی بات ہے اس وقت تک نفع والا قرض ممنوع نہ تھا اور کسی چیز کو دوسری چیز کے بدلے لینے کی ممانعت نہیں تھی اگرچہ وہ مساوی نہ ہوں پھر جب سود کو حرام کیا گیا تو ہر وہ قرض جو نفع لائے اس کو حرام قرار دے دیا گیا اور تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ مال مرہونہ کا نفقہ راہن پر ہے مرتہن کے ذمہ نہیں مرتہن کو رہن کے استعمال کا حق نہیں ہے۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٢٢٨۔
نسخ ربا کی روایت :