hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5760

.

الطحاوي

5760
Al Tahawi
۵۷۵۹: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ وَسُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسَی قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُغْلَقُ الرَّہْنُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَقَالَ قَائِلٌ : فَلَمَّا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُغْلَقُ الرَّہْنُ لِصَاحِبِہٖ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الرَّہْنَ لَا یَضِیعُ بِالدَّیْنِ وَأَنَّ لِصَاحِبِہٖ غُنْمَہُ وَہُوَ سَلَامَتُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ وَہُوَ غُرْمُ الدَّیْنِ بَعْدَ ضَیَاعِ الرَّہْنِ .وَہٰذَا تَأْوِیْلٌ قَدْ أَنْکَرَہُ أَہْلُ الْعِلْمِ جَمِیْعًا بِاللُّغَۃِ وَزَعَمُوْا أَنْ لَا وَجْہَ لَہٗ عِنْدَہُمْ .وَالَّذِیْ حَمَلَنَا عَلٰی أَنْ نَأْتِیَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَاِنْ کَانَ مُنْقَطِعًا احْتِجَاجُ الَّذِیْ یَقُوْلُ بِالْمُسْنَدِ بِہٖ عَلَیْنَا وَدَعْوَاہُ أَنَّا خَالَفْنَاہُ .وَقَدْ کَانَ یَلْزَمُہُ عَلٰی أَصْلِہِ لَوْ أَنْصَفَ خَصْمَہُ أَنْ لَا یَحْتَجَّ بِمِثْلِ ہٰذَا اِذَا کَانَ مُنْقَطِعًا وَہُوَ لَا یَقُوْمُ الْحُجَّۃُ عِنْدَہُ بِالْمُنْقَطِعِ .فَاِنْ قَالَ : اِنَّمَا قَبِلْتُہٗ وَاِنْ کَانَ مُنْقَطِعًا لِأَنَّہٗ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ وَمُنْقَطِعُ سَعِیْدٍ یَقُوْمُ مَقَامَ الْمُتَّصِلِ .قِیْلَ لَہٗ : وَمَنْ جَعَلَ لَک أَنْ تَخُصَّ سَعِیْدًا ہٰذَا وَتَمْنَعَ مِنْہُ مِثْلَہٗ۔مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِثْلَ أَبِیْ سَلَمَۃَ وَالْقَاسِمِ وَسَالِمٍ وَعُرْوَۃَ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ وَأَمْثَالِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَالشَّعْبِیِّ وَاِبْرَاھِیْمَ النَّخَعِیِّ وَأَمْثَالِہِمَا رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ مِنْ أَہْلِ الْکُوْفَۃِ وَالْحَسَنِ وَابْنِ سِیْرِیْنَ وَأَمْثَالِہِمَا رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ وَکَذٰلِکَ مَنْ کَانَ فِیْ عَصْرِ مَنْ ذَکَرْنَا مِنْ سَائِرِ فُقَہَائِ الْأَمْصَارِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ وَمَنْ کَانَ فَوْقَہُمْ مِنِ الطَّبَقَۃِ الْأُوْلٰی مِنْ التَّابِعِیْنَ مِثْلَ عَلْقَمَۃَ وَالْأَسْوَدِ وَعَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیْلَ وَعُبَیْدَۃَ وَشُرَیْحٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ ؟ .لَئِنْ کَانَ ہٰذَا لَک مُطْلَقًا فِیْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ فَاِنَّہٗ مُطْلَقٌ لِغَیْرِک فِیْمَنْ ذَکَرْنَا .وَاِنْ کَانَ غَیْرُک مَمْنُوْعًا مِنْ ذٰلِکَ فَاِنَّک مَمْنُوْعٌ مِنْ مِثْلِہِ لِأَنَّ ہٰذَا تَحَکُّمٌ وَلَیْسَ لِأَحَدٍ أَنْ یَحْکُمَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ بِالتَّحَکُّمِ .وَقَدْ قَالَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِیْ تَأْوِیْلِ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرَ مَا ذَکَرْت .
٥٧٥٩: عطاء اور سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ارشاد میں فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے اور اس کے مالک کو اس کا فائدہ ہے اور اس کا تاوان اسی پر ہے تو اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ رہن قرض کے بدلے ضائع نہ ہوگا اور اس کے مالک کے لیے اس کا نفع ہے اور وہ اس مرہونہ چیز کا سلامت رہنا ہے اور اسی کے ذمہ اس کا تاوان ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مرہونہ شئی کے ضائع ہونے کے بعد ا سپر قرض کا تاوان ہوگا۔ ان کو جواب میں کہیں گے کہ تمام اہل لغت نے اس تاویل کا انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس معنی کی کوئی صورت نہیں ہے اگرچہ یہ روایت منقطع ہے لیکن اس کے باوجود اس کے لانے پر اس وجہ سے مجبور ہوئے ہیں کہ مخالف نے اسی سے ہمارے خلاف استدلال کر کے ہمیں اس حدیث کے مخالف گردانا ہے۔ حالانکہ اگر ہمارے ساتھ انصاف سے پیش آتا تو خود اپنے قاعدے کے مطابق اس سے استدلال ہی نہ کرتا۔ کیونکہ یہ منقطع ہے اور حدیث منقطع ان کے ہاں حجت نہیں۔ بالفرض اگر وہ کہیں کہ منقطع ہونے کے باوجود اس کو اس لیے قبول کیا کہ سعید بن مسیب کی منقطع بھی متصل کے قائم مقام ہے۔ تو اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ یہ بات سعید بن مسیب کے ساتھ خاص کرنے کا حق آپ کو کہاں سے مل گیا حالانکہ ان کے برابر اہل مدینہ کے علماء مثلاً ابو سلمہ ‘ قاسم ‘ سالم ‘ عروہ ‘ سلیمان بن یسار رحمہم اللہ سے ایسی منقطع روایت کا آپ انکار کرتے ہیں اسی طرح ان جیسے اہل کوفہ کے علماء شعبی ابراہیم نخعی رحمہم اللہ اور اہل بصرہ کے حسن اور ابن سیرین رحمہم اللہ اور ان جیسی دیگر شخصیات سے بھی تسلیم نہیں کرتے اسی دور کے تمام فقہاء کرام اور جو ان سے بھی اوپر کے درجہ کے لوگ اور طبقہ اولیٰ تابعین سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً علقمہ ‘ اسود ‘ عمر بن شرحبیل ‘ عبیدہ ‘ شریح رحمہم اللہ سے بھی تسلیم نہیں کرتے اگر منقطع روایت کا قبول کرلینا آپ کے لیے مطلقاً سعد بن مسیب (رح) کے متعلق درست ہے تو دوسروں کے لیے ان حضرات کی ایسی روایت مطلقاً درست ہوگئی اور اگر دوسروں کے لیے یہ بات جائز نہیں مانتے تو آپ کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں ورنہ تو یہ محض ضد ہے اور کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے دین میں ایسی ضد بازی کی قطعاً اجازت نہیں۔
اس روایت کی ایک اور تاویل :