۵۷۶۰: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ فِیْمَا أَعْلَمُ فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فَقَدْ دَخَلَ فِیْمَا کَانَ أَجَازَہُ لِی .قَالَ : ثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ : ثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مُغِیْرَۃَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ فِیْ رَجُلٍ دَفَعَ اِلٰی رَجُلٍ رَہْنًا وَأَخَذَ مِنْہُ دَرَاہِمَ وَقَالَ : اِنْ جِئْتُک بِحَقِّک اِلٰی کَذَا وَکَذَا وَاِلَّا وَفَّی الرَّہْنُ لَک بِحَقِّک .فَقَالَ اِبْرَاھِیْمُ لَا یُغْلَقُ الرَّہْنُ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : أَنَجْعَلُہُ جَوَابًا لِمَسْأَلَتِہٖ؟ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ طَاوُسٍ نَحْوٌ مِنْ ہٰذَا بَلَغَنِیْ ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍوْ عَنْ طَاوُسٍ .قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : وَأَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیْ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَسُفْیَانَ بْنِ سَعِیْدٍ أَنَّہُمَا کَانَ یُفَسِّرَانِہِ عَلَی ہٰذَا التَّفْسِیْرِ .
٥٧٦٠: مغیرہ نے ابراہیم سے اس آدمی کے متعلق بیان کیا جس نے ایک آدمی کو رہن حوالے کیا اور اس سے کچھ دراہم لیے اور اسے کہا اگر میں نے تمہارا حق فلاں وقت تک ادا کردیا تو مناسب ورنہ رہن تمہارے لیے تمہارے حق کے بدلے ہوجائے گا۔ تو ابراہیم کہنے لگے۔ رہن بند نہ ہوگا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے اس سوال کا جواب قرار دیا اور ابن عیینہ نے عمرو بن طاوس سے نقل کیا کہ وہ بھی یہی تاویل کرتے تھے۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ مالک بن انس اور سفیان بن سعید دونوں بھی یہ تفسیر کرتے تھے۔