۵۷۹۸: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُو عُمَرَ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ قَالَ : کَانَ طَاوُسٌ یَکْرَہُ کِرَائَ الْأَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ .فَہٰذَا طَاوُسٌ یَکْرَہُ کَرْیَ الْأَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَلَا یَرٰی بَأْسًا بِدَفْعِہَا بِبَعْضِ مَا یَخْرُجُ وَسَیَجِیْئُ بِذٰلِکَ فِیْمَا بَعْدُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی .فَاِنْ کَانَ النَّہْیُ الَّذِیْ فِیْ حَدِیْثِ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ وَقَعَ عَلَی الْکِرَائِ أَصْلًا بِشَیْئٍ مِمَّا یَخْرُجُ وَبِغَیْرِ ذٰلِکَ فَہٰذَا مَعْنًیْ یُخَالِفُہُ الْفَرِیْقَانِ جَمِیْعًا .وَقَدْ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ النَّہْیُ وَاقِعًا لِمَعْنَی غَیْرِ ذٰلِکَ .فَنَظَرْنَا ہَلْ رَوَی أَحَدٌ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ فِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا یَدُلُّ عَلَی الْمَعْنَی الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہِ کَانَ النَّہْیُ ؟
٥٧٩٨: عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ طاوس (رح) زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینا مکروہ خیال کرتے تھے۔ یہ طاوس زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینا مکروہ خیال کرتے ہیں مگر اس کو زمین کی بعض پیداوار کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور عنقریب یہ بات انشاء اللہ آئے گی۔
نمبر 4: اگر جابر (رض) کی روایت میں ممانعت مطلق ہو کہ خواہ وہ زمین سے نکلنے والی پیداوار میں سے کسی چیز کے بدلے ہو یا اور کسی چیز کے بدلے ہو تو اس معنی کے دونوں فریق قائل نہیں ہیں۔
نمبر 5: اور یہ بھی ممکن ہے کہ ممانعت کسی اور وجہ سے ہو۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا حضرت جابر (رض) سے کوئی ایسی روایت وارد ہے جو وجہ ممانعت پر دلالت کرتی ہو ؟