۵۸۰۱: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کُنَّا نُخَابِرُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنُصِیْبُ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ مَنْ کَانَتْ لَہٗ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْ لِیَمْنَحْہَا أَخَاہُ وَاِلَّا فَلْیَزْرَعْہَا .فَأَخْبَرَ أَبُو الزُّبَیْرِ فِیْ ہٰذَا عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ بِالْمَعْنَی الَّذِی وَقَعَ النَّہْیُ مِنْ أَجْلِہِ وَأَنَّہٗ اِنَّمَا ہُوَ لِشَیْئٍ کَانُوْا یُصِیْبُوْنَہُ فِی الْاِجَارَۃِ فَکَانَ النَّہْیُ مِنْ قَبْلِ ذٰلِکَ جَائَ .وَقَدْ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ مَعْنَیْ حَدِیْثِ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ الَّذِیْ ذٰکَرْنَا کَذٰلِکَ .وَأَمَّا حَدِیْثُ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَدْ جَائَ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَۃٍ اضْطَرَبَ مِنْ أَجْلِہَا .فَأَمَّا حَدِیْثُ ابْنِ عُمَرَ عَنْہُ فَہُوَ مِثْلُ حَدِیْثِ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنِ الْمُزَارَعَۃِ .فَہُوَ یَحْتَمِلُ مَا وَصَفْنَا مِنْ مَعَانِیْ حَدِیْثِ ثَابِتٍ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا وَبَیَّنَّا .وَأَمَّا مَا رَوَاہٗ عَلِیٌّ مِثْلُ مَا رَوَی جَابِرٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَیَحْتَمِلُ أَیْضًا مَا وَصَفْنَا مِمَّا یَحْتَمِلُ حَدِیْثُ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .ثُمَّ نَظَرْنَا بَعْدَ ذٰلِکَ ہَلْ نَجِدُ عَنْ رَافِعٍ مَعْنًیْ یَدُلُّنَا عَلَی وَجْہِ النَّہْیِ عَنْ ذٰلِکَ لِمَ کَانَ ؟ فَاِذَا أَبُوْبَکْرَۃَ۔
٥٨٠١: ابوالزبیر نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں بیع مخابرہ کرتے تھے جس سے ہمیں اتنا اتنا حصہ ملتا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر اپنے مسلمان بھائی کو دے۔ یا اس میں کاشت کروائے۔ اس روایت میں ابوالزبیر نے حضرت جابر (رض) سے وہ وجہ نقل کی جو ممانعت کا باعث تھی بلاشبہ وہ اجارہ میں پائی جانے والی چیز کے سبب تھی ممانعت اسی طرف سے آئی۔ عین ممکن ہے کہ ثابت بن ضحاک (رض) کی روایت کا بھی یہی معنی ہو۔ باقی حدیث رافع (رض) تو اس کے الفاظ مختلف وارد ہوئے جس کی وجہ سے وہ روایت مضطرب ہے۔ حدیث ابن عمر (رض) وہ ثابت بن ضحاک (رض) کی روایت جیسی ہے۔ کیونکہ اس میں مزارعت کی ممانعت ہے۔ اس میں بھی ثابت والی روایت کے معانی کا احتمال ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا۔ بقیہ جنہوں نے حضرت جابر (رض) جیسی روایات ذکر کی ہیں تو ان میں حدیث جابر (رض) والے احتمالات ہیں۔ اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا حضرت رافع (رض) سے کوئی ایسی روایت وارد ہے جو نہی کی جانب پر دلالت کرے کہ یہ کیوں ہوئی ؟
تخریج : مسلم فی البیوع ٩٥‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣١‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٧‘ دارمی فی البیوع باب ٧٢‘ مسند احمد ١؍٢٣٤‘ ٢؍١١‘ ٣‘ ٣١٢؍٣١٣‘ ٤؍١٤٢۔
حاصل کلام : اس روایت میں ابوالزبیر نے حضرت جابر (رض) سے وہ وجہ نقل کی جو ممانعت کا باعث تھی بلاشبہ وہ اجارہ میں پائی جانے والی چیز کے سبب تھی ممانعت اسی طرف سے آئی۔
نمبر 1: عین ممکن ہے کہ ثابت بن ضحاک (رض) کی روایت کا بھی یہی معنی ہو۔
نمبر 2: باقی حدیث رافع (رض) تو اس کے الفاظ مختلف وارد ہوئے جس کی وجہ سے وہ روایت مضطرب ہے۔
نمبر 3: حدیث ابن عمر (رض) وہ ثابت بن ضحاک (رض) کی روایت جیسی ہے۔ کیونکہ اس میں مزارعت کی ممانعت ہے۔ اس میں بھی ثابت والی روایت کے معانی کا احتمال ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا۔
نمبر 4: بقیہ جنہوں نے حضرت جابر (رض) جیسی روایات ذکر کی ہیں تو ان میں حدیث جابر (رض) والے احتمالات ہیں۔
نظر دیگر : اب ہم یہ دیکھنا چاہتے کہ آیا حضرت رافع (رض) سے کوئی ایسی روایت وارد ہے جو نہی کی جانب پر دلالت کرے کہ یہ کیوں ہوئی ؟
وجہ ممانعت والی روایت رافع (رض) :