۵۸۰۲: قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَبُو عُمَرَ قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَنَّ یَحْیَی بْنَ سَعِیْدٍ الْأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہُمْ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ قَیْسٍ الزُّرَقِیِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : کُنَّا - بَنِیْ حَارِثَۃَ - أَکْثَرَ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ حَقْلًا وَکُنَّا نُکْرِی الْأَرْضَ عَلٰی أَنَّ مَا سَقَی الْمَاذِیَانَاتُ وَالرَّبِیْعُ قُلْنَا وَمَا سَقَتِ الْجَدَاوِلُ فَلَہُمْ فَرُبَّمَا سَلِمَ ہٰذَا وَہَلَکَ ہٰذَا وَرُبَّمَا ہَلَکَ ہٰذَا وَسَلِمَ ہٰذَا وَلَمْ یَکُنْ عِنْدَنَا یَوْمَئِذٍ ذَہَبٌ وَلَا فِضَّۃٌ فَنَعْلَمُ ذٰلِکَ فَسَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ فَنَہَانَا .
٥٨٠٢: حنظلہ بن قیس زرقی نے حضرت رافع (رض) سے نقل کیا ہے ہم بنو حارثہ کے قبیلہ کی زمینیں مدینہ میں سب سے زیادہ تھیں اور ہم زمین کو اس طرح کرایہ پر دیتے تھے کہ جو کچھ بڑے نالوں یا بارش سے سیراب ہوگا وہ حصہ پیداوار ہمارا ہوگا اور جو پیداوار کا حصہ چھوٹے نالوں سے سیراب ہوگا وہ ان کرایہ پر لینے والوں کے لیے ہوگا بعض اوقات یہ حصہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہوجاتا اور بعض اوقات وہ تباہ ہوجاتا اور یہ بچ جاتا ان دنوں ہمارے پاس سونا ‘ چاندی نہیں تھی۔ پھر ہمیں معلوم ہوا اور ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلے میں دریافت کیا تو آپ نے منع فرمایا۔
تخریج : بخاری فی الشروط باب ٧‘ والحرث باب ١٢‘ مسلم فی البیوع ١١٧۔