۵۸۱۰: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیزِیُّ قَالَ : ثَنَا حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ وَہُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی بَدَنِیْ أَنَّ عُمُوْمَتَہُ جَائُوْا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعُوْا فَقَالُوْا : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ .فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدْ عَلِمْنَا أَنَّہٗ کَانَ صَاحِبَ مَزْرَعَۃٍ یُکْرِیہَا عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی أَنَّ لَہٗ مَا فِیْ رَبِیْعِ السَّاقِی الَّذِیْ تَفَجَّرَ مِنْہُ الْمَائُ وَطَائِفَۃً مِنْ التِّبْنِ لَا أَدْرِی مَا التِّبْنُ مَا ہُوَ ؟ .فَبَیَّنَ سَعْدٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَا نَہَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمَ کَانَ وَأَنَّہٗ اِنَّمَا کَانَ ؛ لِأَنَّہُمْ کَانُوْا یَشْتَرِطُوْنَ مَا عَلٰی رَبِیْعِ السَّاقِی وَذٰلِکَ فَاسِدٌ فِی قَوْلِ النَّاسِ جَمِیْعًا .وَحَمَلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا النَّہْیَ عَلٰی أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ عَلٰی ذٰلِکَ الْمَعْنَی أَیْضًا .وَزَادَ حَدِیْثُ سَعْدٍ عَلَی غَیْرِہِ مِنْ ہٰذِہِ الْأَحَادِیْثِ اِبَاحَۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِجَارَۃَ الْأَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ .فَقَدْ بَانَ نَہْیُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَۃِ فِی الْآثَارِ الْمُتَقَدِّمَۃِ لِمَ کَانَ وَمَا الَّذِیْ نَہٰی عَنْہُ مِنْ ذٰلِکَ ؟ وَلَمْ یَثْبُتْ فِیْ شَیْئٍ مِنْہَا النَّہْیُ عَنْ اِجَارَۃِ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا یَخْرُجُ اِذَا کَانَ ثُلُثًا أَوْ رُبُعًا أَوْ مَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ .وَقَدْ احْتَجَّ قَوْمٌ فِیْ ذٰلِکَ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی
٥٨١٠: نافع نے بیان کیا کہ حضرت نافع (رض) نے ابن عمر (رض) کو اطلاع دی وہ اس وقت میرے وجود سے پر تکیہ لگائے ہوئے تھے کہ میرے چچا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے پھر واپسی پر کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمینوں کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کردی ہے ابن عمر (رض) نے فرمایا ہم جانتے ہیں کہ وہ زمین کے مالک تھے اور زمانہ نبوت میں زمین کو اس طرح کرایہ پر دیتے کہ جو کچھ نالیوں کے کناروں پر ہوگا جس سے پانی پھوٹتا ہے اور گھاس بھی ان کا ہوگا وہ فرماتے تھے مجھے معلوم نہیں کہ تبن سے کیا مراد ہے۔ (یعنی چارا یا عام گھاس) اس روایت میں حضرت سعد (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ممانعت کی وجہ بیان فرمائی اور وہ اس لیے تھی کہ لوگ نالیوں کے کناروں والے حصہ کی پیداوار کی شرط رکھا کرتے تھے اور اس قسم کی مزارعت تو سب کے ہاں ناجائز ہے اور حضرت ابن عمر (رض) نے بھی اسی بات پر محمول کیا کہ ہوسکتا ہے کہ ممانعت کی یہ وجہ ہو اور حضرت سعد (رض) کی روایت میں دوسری روایات کے مقابلہ میں اضافہ ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے اور چاندی کے بدلے زمین کو اجرت پر دینے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ گزشتہ روایات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیوں منع فرمایا اور کس چیز سے منع فرمایا اور یہ بات پایہ ثبوت کو نہ پہنچ سکی کہ زمین کی کچھ پیداوار مثلاً تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ وغیرہ کے بدلے زمین کو اجرت پر دینا جائز نہیں۔
فریق اوّل کی ایک اور دلیل :