۵۸۰۹: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : أَخْبَرَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ کَاسِبٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عِکْرَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ لَبِیْبَۃَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ : کَانَ النَّاسُ یَکْرُوْنَ الْمَزَارِعَ بِمَا یَکُوْنُ عَلَی السَّاقِی وَبِمَا یُسْقٰی بِالْمَائِ مِمَّا حَوْلَ الْبِئْرِ فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ وَقَالَ اُکْرُوْہَا بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ .
٥٨٠٩: سعید بن مسیب حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نالیوں کے کنارے اور کنویں کے گرد نالی سے سیراب ہونے والے حصے کی پیداوار پر مزارعت کرتے تھے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ سونے اور چاندی کے ساتھ کرایہ پر دیا کرو۔
تخریج : نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ مسند احمد ١؍١٧٩۔