hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5841

.

الطحاوي

5841
Al Tahawi
۵۸۴۰: حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحِمَّانِیُّ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ أَنَّہٗ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فِیْ أَرْضِ قَوْمٍ بِغَیْرِ اِذْنِہِمْ فَلَیْسَ لَہٗ مِنْ الزَّرْعِ شَیْئٌ وَیُرَدُّ عَلَیْہِ نَفَقَتُہُ فِیْ ذٰلِکَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ مَنْ زَرَعَ فِیْ أَرْضِ قَوْمٍ زَرْعًا بِغَیْرِ أَمْرِہِمْ کَانَ ذٰلِکَ الزَّرْعُ لِأَرْبَابِ الْأَرْضِ وَغَرِمُوْا لِلزَّارِعِ مَا أَنْفَقَ فِیْہِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : أَصْحَابُ الْأَرْضِ بِالْخِیَارِ اِنْ شَائُوْا خَلَّوْا بَیْنَ الزَّارِعِ وَبَیْنَ أَخْذِ زَرْعِہِ ذٰلِکَ وَضَمِنُوْھُ بِنُقْصَانِ أَرْضِہِمْ اِنْ کَانَ زَرْعُہُ ذٰلِکَ قَدْ نَقَصَ الْأَرْضَ شَیْئًا وَاِنْ شَائُوْا مَنَعُوْا الزَّارِعَ مِنْ ذٰلِکَ وَغَرِمُوْا لَہٗ قِیْمَۃَ زَرْعِہِ ذٰلِکَ مَقْلُوْعًا .وَقَدْ کَانَ لَہُمْ مِنَ الْحُجَّۃِ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی غَیْرِ مَا ذَکَرُوْھُ فِیْ ذٰلِکَ .
٥٨٤٠: عطاء نے حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان کی زمین میں کاشت کی اس کے لیے اس کھیتی میں سے کچھ بھی نہ ہوگا۔ البتہ جو کچھ اس نے خرچ کیا وہ اس کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : جس آدمی نے کسی کی زمین کو اس کی اجازت کے بغیر کاشت کرلیا تو وہ کھیتی زمین کے مالک کی ہوگی اور کاشت کار نے جو خرچ کیا مالک اس کا ضامن ہوگا انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ دوسرا فریق کہتا ہے کہ زمین والوں کو اختیار ہے کہ کاشت کار کو وہ کھیتی چھوڑ دیں اور زمین کا نقصان اس سے بھریں اگر اس کی کھیتی سے زمین کو نقصان پہنچا ہو اور اگر وہ پسند کریں تو کاشت کار کو اس کھیتی سے روک دیں اور کاٹی ہوئی فصل کے مطابق تاوان بھر دیں انھوں نے بھی اس حدیث کو دوسری اساند سے نقل کر کے دلیل میں پیش کیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٣٢‘ ترمذی فی الاحکام باب ٢٩‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ١٣‘ مسند احمد ٣؍٤٦٥‘ ٤؍١٤١۔
جو شخص کسی کی زمین کو بلااجازت کاشت کرتا ہے امام احمد فرماتے ہیں اس کو اپنے بیج کے علاوہ کچھ نہ ملے گا دوسرا فریق جس کو عام فقہاء امصار نے اپنایا ہے وہ یہ ہے کہ کھیتی بیج والے کی ہوگی البتہ وہ کھیت کے نقصان کا ضمان دے گا اور وہ اس سے کھیت کا کرایہ وصول کریں گے۔ یہ غصب کی طرح ہوگا۔
تخریج : کذا فی البذل ج ٤‘ ٢٦٠‘ والتعلیق ج ٣‘ ٣٦٥۔
روایت رافع (رض) دوسری سند سے :