۵۸۴۱: وَہُوَ کَمَا قَدْ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرٍ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ فِیْ أَرْضِ قَوْمٍ بِغَیْرِ اِذْنِہِمْ فَلَہٗ نَفَقَتُہُ وَلَیْسَ لَہٗ مِنْ الزَّرْعِ شَیْئٌ .وَقَدْ رَوَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثَ أَیْضًا یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ شَرِیْکٍ وَقَیْسٍ جَمِیْعًا عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ وَذَکَرَہٗ عَنْہُمَا فِیْ کِتَابِ الْخَرَاجِ کَمَا قَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ أَیْضًا لَا کَمَا قَدْ حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ .فَمَعْنٰی ْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عِنْدَنَا غَیْرُ مَعْنَی مَا رَوَی الْحِمَّانِیُّ لِأَنَّ مَا قَدْ رَوَی الْحِمَّانِیُّ ہُوَ قَوْلُہٗ فَلَیْسَ لَہٗ مِنْ الزَّرْعِ شَیْئٌ وَیُرَدُّ عَلَیْہِ نَفَقَتُہُ فِیْ ذٰلِکَ .فَوَجْہُ ذٰلِکَ أَنَّ غَیْرَہُ یُعْطِیْہِ النَّفَقَۃَ الَّتِی قَدْ أَنْفَقَہَا فِیْ ذٰلِکَ فَیَکُوْنُ لَہٗ الزَّرْعُ لَا بِمَا یُعْطَی مِنْ ذٰلِکَ .وَہٰذَا مُحَالٌ عِنْدَنَا لِأَنَّ النَّفَقَۃَ الَّتِی قَدْ أُخْرِجَتْ فِیْ ذٰلِکَ الزَّرْعِ لَیْسَتْ بِقَائِمَۃٍ وَلَا لَہَا بَدَلٌ قَائِمٌ وَذٰلِکَ أَنَّہَا اِنَّمَا دُفِعَتْ فِیْ أَجْرِ عُمَّالٍ وَغَیْرِ ذٰلِکَ مِمَّا قَدْ فَعَلَہُ الْمُزَارِعُ لَہٗ لِنَفْسِہِ فَاسْتَحَالَ أَنْ یَجِبَ لَہٗ ذٰلِکَ عَلٰی رَبِّ الْأَرْضِ اِلَّا بِعِوَضٍ یَتَعَوَّضُہُ مِنْہُ رَبُّ الْأَرْضِ فِیْ ذٰلِکَ .وَلٰـکِنْ أَصْلُ الْحَدِیْثِ عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ اِنَّمَا ہُوَ عَلٰی مَا قَدْ رَوَاہُ أَبُوْبَکْرِ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ لَا عَلٰی مَا قَدْ رَوَاہُ الْحِمَّانِیُّ فِیْ ذٰلِکَ .وَوَجْہُ ذٰلِکَ عِنْدَنَا عَلٰی أَنَّ الزَّارِعَ لَا شَیْئَ لَہٗ فِی الزَّرْعِ یَأْخُذُہُ لِنَفْسِہِ فَیَمْلِکُہُ کَمَا یَمْلِکُ الزَّرْعَ الَّذِیْ یَزْرَعُہٗ فِیْ أَرْضِ نَفْسِہِ أَوْ فِیْ أَرْضِ غَیْرِہِ مِمَّنْ قَدْ أَبَاحَ لَہٗ الزَّرْعَ فِیْہَا وَلٰـکِنَّہٗ یَأْخُذُ نَفَقَتَہُ وَبَذْرَہُ وَیَتَصَدَّقُ بِمَا بَقِیَ ہٰکَذَا وَجْہُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عِنْدَنَا فِیْ ذٰلِکَ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .وَقَدْ ذَکَرَ ذٰلِکَ یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ أَیْضًا .وَمِنْ الدَّلِیْلِ عَلٰی صِحَّۃِ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٨٤١: احمد بن ابی عمران نے اپنی اسناد سے عطاء سے انھوں نے رافع (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کسی کی زمین میں بلااجازت کھیتی کی تو اس کو اس کا خرچہ واپس ملے گا کھیتی میں اس کا کچھ بھی حق نہیں۔ اسی روایت کو یحییٰ بن آدم نے شریک و قیس سے اور دونوں نے ابو اسحاق سے نقل کیا اور یحییٰ نے کتاب الخراج میں اس کو اسی طرح نقل کیا جس طرح ابن ابی عمران (رح) نے نہ کہ فہد بن سلیمان نے۔ ہمارے ہاں اس کا وہ مفہوم نہیں ہے جو کہ حمانی نے روایت نمبر ٥٨٤٠ میں ذکر کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کھیتی میں سے اس کو کچھ نہ ملے گا اور اس کا خرچہ اسے واپس کردیا جائے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ مالک اس کو اس کا خرچہ واپس کرے گا جو اس نے خرچ کیا اور کھیتی کا وہ مالک بن جائے گا اس کے بدلے نہیں جو اس نے (غاصب) کو واپس کیا ہے۔ مگر یہ مفہوم ہمارے ہاں محال ہے کیونکہ نمبر ١ وہ خرچہ جو اس کھیتی پر کیا گیا وہ تو موجود نہیں اور نہ اس کا کوئی بدل موجود ہے اور یہ اس لیے کہ خرچہ تو کام کرنے والوں اور اس کے لیے دے دیا گیا جو کاشتکار نے اس پر خرچ کیا پس یہ ناممکن ہے کہ اس کے لیے مالک زمین پر کچھ لازم ہو۔ مگر اس چیز کے بدلے جو مالک زمین نے اس کے بدلے میں لی ہے۔ ہمارے ہاں اصل حدیث وہ ہے جو ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کی ہے وہ نہیں جو حمانی نے روایت کی ہے۔ روایت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ کاشتکار کو کھیتی میں سے کچھ نہ ملے گا جس کو وہ اپنی ذات کے لیے لے سکے اور اس کا اسی طرح مالک ہو جس طرح اپنی زمین میں کاشت کی ہوئی کھیتی کا بنتا ہے یا دوسرے کی اس زمین میں کاشت کی ہوئی کھیتی کا مالک بنتا ہے جس نے اس کے لیے کاشت کو مباح کیا ہو۔ لیکن یہاں صرف وہ اپنا بیج اور خرچہ وصول کرے گا اور بقیہ کو صدقہ کر دے گا ہمارے نزدیک اس کا یہی مفہوم ہے۔ واللہ اعلم۔ اور اس بات کو یحییٰ بن آدم نے حفص بن غیاث سے بھی نقل کیا ہے اور اس کی درستی پر یہ روایت بھی دلیل ہے۔
تخریج : مسند احمد ٤؍١٤١‘ ترمذی فی الاحکام باب ٢٩۔