۵۸۴۴: مَا قَدْ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِیْ جَمِیْلٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : اشْتَرَکَ أَرْبَعَۃُ نَفَرٍ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُہُمْ عَلَیَّ الْبَذْرُ وَقَالَ الْآخَرُ عَلَیَّ الْعَمَلُ وَقَالَ الْآخَرُ عَلَیَّ الْأَرْضُ وَقَالَ الْآخَرُ عَلَیَّ الْفَدَّانُ فَزَرَعُوْا ثُمَّ حَصَدُوْا .ثُمَّ أَتَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الزَّرْعَ لِصَاحِبِ الْبَذْرِ وَجَعَلَ لِصَاحِبِ الْعَمَلِ أَجْرًا وَجَعَلَ لِصَاحِبِ الْفَدَّانِ دِرْہَمًا فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَأَلْغَی الْأَرْضَ فِیْ ذٰلِکَ .أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفْسَدَ ہٰذِہِ الْمُزَارَعَۃَ لَمْ یَجْعَلْ الزَّرْعَ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ بَلْ قَدْ جَعَلَہٗ لِصَاحِبِ الْبَذْرِ .وَقَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا مَا قَدْ حَکَمَ بِہٖ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَابِعُوْھُمْ مِنْ بَعْدِہِمْ فِیْمَنْ بَنَی فِیْ أَرْضِ قَوْمٍ بِغَیْرِ أَمْرِہِمْ بِنَائً ۔
٥٨٤٤: مجاہد (رح) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ مبارک میں چار آدمیوں نے شراکت کی ان میں سے ایک نے بیج کی بات کی جبکہ دوسرے نے کام کی اور تیسرے نے زمین اور چوتھے نے بیلوں کی جوڑی مہیا کرنے کی۔ انھوں نے کاشتکاری کی پھر فصل کاٹی پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے کھیتی بیج والے کو دے دی اور مشقت کرنے والے کو معلوم اجرت دے دی اور بیلوں کی جوڑی والے کو ہر روز کے بدلے ایک درہم دیا اور زمین (والے) کو لغو قرار دیا۔ یعنی کچھ نہ دیا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزارعت کو فاسد قرار دیا اور زمین والے کو کھیتی میں سے کچھ بھی نہ دیا بلکہ اسے بھیجنے والے کے لیے قرار دیا۔ اس کے متعلق صحابہ کرام اور تابعین (رح) کے فیصلے بھی دلالت کرتے ہیں جو انھوں نے ان لوگوں کے متعلق فرمائے جنہوں نے دوسروں کی اجازت کے بغیر نا کی زمین پر تعمیرات کی تھیں۔
حضرت ابن مسعود و حضرت عمر (رض) کا فیصلہ :