۵۸۴۳: وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِیْرُ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ بَیَاضَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذٰلِکَ أَیْضًا .أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَطْعِ النَّخْلِ الْمَغْرُوْسِ فِیْ غَیْرِ حَق بَعْدَمَا قَدْ نَبَتَ فِی الْأَرْضِ وَلَمْ یَجْعَلْہُ لِأَرْبَابِ الْأَرْضِ فَیُوْجِبُ عَلَیْہِمْ غُرْمَ مَا أَنْفَقَ فِیْہِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الزَّرْعَ الْمَزْرُوْعَ فِی الْأَرْضِ أَحْرَی أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ وَأَنْ یُقْلَعَ ذٰلِکَ فَیُدْفَعَ اِلٰی صَاحِبِ الزَّرْعِ کَالنَّخْلِ الَّتِی قَدْ ذَکَرْنَاہَا اِلَّا أَنْ یَشَائَ صَاحِبُ الْأَرْضِ أَنْ یَمْنَعَ مِنْ ذٰلِکَ وَیَغْرَمَ قِیْمَۃَ الزَّرْعِ وَالنَّخْلِ مَنْزُوْعَیْنِ مَقْلُوْعَیْنِ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ لَہٗ۔وَقَدْ دَلَّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَاہُ مِنْ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٨٤٣: یحییٰ بن عروہ نے اپنے والد سے انھوں نے بنو بیاضہ کے ایک آدمی سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ناحق لگے ہوئے درخت کو اکھاڑنے کا حکم فرمایا۔ جبکہ وہ زمین میں اگ چکا تھا اور اس درخت کو مالک زمین کا قرار نہیں دیا کہ ان پر خرچہ کی چٹی ڈال دی جاتی۔ پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ بوئی ہوئی کھیتی اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ اس کو کاٹ ڈالا جائے اور کھیتی لگانے والے کے حوالے کردی جائے جیسا کہ وہ کھجور جس کا ہم نے تذکرہ کیا البتہ اگر زمین والا اس سے روکے اور کھیتی اور کھجور کی چٹی ادا کرے جو ان کو کاٹے اور اکھاڑے جانے کی حالت میں ہوتی ہے تو یہ چیزیں مالک زمین کی ہوجائیں گی۔ یہ روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔