hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5853

.

الطحاوي

5853
Al Tahawi
۵۸۵۲: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَالِمٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِیجَابُ الشُّفْعَۃِ فِی الْبَیْعِ الَّذِی لَا شِرْکَ فِیْہِ بِالشِّرْکِ فِی الطَّرِیْقِ فَلَا یُجْعَلُ وَاحِدٌ مِنْ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ مُضَادًّا لِلْحَدِیْثِ الْآخَرِ وَلٰـکِنْ یَثْبُتَانِ جَمِیْعًا وَیُعْمَلُ بِہِمَا .فَیَکُوْنُ حَدِیْثُ أَبِی الزُّبَیْرِ فِیْہِ اِخْبَارٌ عَنْ حُکْمِ الشُّفْعَۃِ لِلشَّرِیْکِ فِی الَّذِی بِیْعَ مِنْہُ مَا بِیْعَ .وَحَدِیْثُ عَطَائٍ فِیْ ذٰلِکَ اِخْبَارٌ عَنْ حُکْمِ الشُّفْعَۃِ فِی الْمَبِیْعِ الَّذِی لَا شَرِکَۃَ لِأَحَدٍ فِیْہِ بِالطَّرِیْقِ .وَقَالَ أَصْحَابُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی : فَاِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَنْفِیْ مَا ادَّعَیْتُمْ .
٥٨٥٢: عطاء نے جابر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس روایت میں مبیع میں حق شفعہ کو لازم کیا گیا ہے۔ جس کو صرف راستہ کی شرکت کے علاوہ شرکت حاصل نہ ہو پس ان دونوں روایات کا باہمی تضاد نہیں بلکہ دونوں ثابت ہو کر واجب العمل ہیں۔ ابوالزبیر والی روایت میں شریک کے لیے شفعہ کے حق کا ثبوت ہے جس میں سے جو فروخت ہوا سو فروخت ہوا۔ روایت عطاء میں اس مبیع کا ذکر ہے جس میں راستہ کی شرکت ہو۔ فریق اول نے اپنے مؤقف کے لیے ان روایات سے استدلال کیا ہے جو فریق ثانی کے مؤقف کی نفی کرتی ہیں۔
فریق اوّل کا ایک استدلال :
فریق اول نے اپنے مؤقف کے لیے ان روایات سے استدلال کیا ہے جو فریق ثانی کے مؤقف کی نفی کرتی ہیں۔