۵۸۶۰: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ نَفْیُ الشُّفْعَۃِ بَعْدَ وُقُوْعِ الْحُدُوْدِ وَصَرْفِ الطُّرُقِ وَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلَی ثُبُوْتِہَا قَبْلَ صَرْفِ الطُّرُقِ وَاِنْ حُدَّتِ الْحُدُوْدُ .فَقَدْ وَافَقَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ حَدِیْثَ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ وَزَادَ عَلٰی مَا رَوَی مَالِکٌ فَہُوَ أَوْلَی مِنْہُ .وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَیْضًا حَدِیْثُ مَالِکٍ أَنْ یَکُوْنَ عَنِیَ بِوُقُوْعِ الْحُدُوْدِ الَّتِیْ نُفِیَتْ بِوُقُوْعِہَا الشُّفْعَۃُ فِی الدُّوْرِ وَالطُّرُقِ .فَیَکُوْنُ الْمَبِیْعُ لَا شِرْکَ لِأَحَدٍ فِیْہِ وَلَا فِیْ طَرِیْقِہٖ۔ فَیَکُوْنُ مَعْنٰی ہٰذَا الْحَدِیْثِ مِثْلَ مَعْنَیْ حَدِیْثِ مَعْمَرٍ وَہُوَ أَوْلَی مَا حُمِلَ عَلَیْہِ حَتّٰی لَا یَتَضَادَّ وَہُوَ وَحَدِیْثُ مَعْمَرٍ .وَقَدْ رَوَی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ مَا یُوَافِقُ مَا رَوَی مَعْمَرٌ .
٥٨٦٠: عبدالرزاق نے معمر سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں حدود کے واقع ہو چکنے کے بعد شفعہ کی نفی ہے اسی طرح راستوں کے مختلف کردینے کے بعد نفی شفعہ ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ راستے مختلف کرنے سے پہلے خواہ حد بندی ہوجائے شفعہ درست ہے اور عبدالملک نے عطاء سے جو روایت کی ہے وہ اس کے موافق ہے اور مالک (رح) کی روایت پر اضافہ ہے۔ پس وہ اس سے اولیٰ ہے۔ اگرچہ روایت مالک (رح) میں یہ احتمال بھی ہے کہ مکانات اور راستوں کی جس حد بندی سے شفعہ کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسا مبیع ہے جس میں کسی کی شرکت نہیں اسی طرح راستہ میں بھی شرکت نہ ہو۔ تو اس طرح اس روایت کا مفہوم روایت معمر کی طرح ہوگیا اور اس معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ بلکہ ابن جریج نے خود زہری سے ایسی روایت نقل کی ہے جو معمر کی روایت کے موافق ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔