۵۸۶۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : أَخْبَرَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیِّبِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِذَا حُدَّتْ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَۃَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْتُ وُجُوْبَ الشُّفْعَۃِ بِالشَّرِکَۃِ فِی الدُّوْرِ وَالْأَرْضِیْنَ وَبِالشِّرْکِ فِی الطَّرِیْقِ اِلَی ذٰلِکَ فَمِنْ أَیْنَ أَوْجَبْت الشُّفْعَۃَ بِالْجِوَارِ ؟ قِیْلَ لَہٗ : أَوْجَبْتُہَا
٥٨٦١: ابن شہاب نے ابن مسیب سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب راستوں کی حد بندی کردی جائے تو اس وقت شفعہ نہیں ہے۔ جیسا کہ تم نے ذکر کیا شفعہ شرکت فی المکان اور زمین اور شرکت راہ سے تو لازم ہوتا ہے یہ جوار والا شفعہ کہاں سے نکال لیا۔ ان روایات سے واجب ہوا ہے۔
تخریج : نسائی فی البیوع باب ١٠٩‘ متغیر یسیر من الالفاظ۔
سوال : جیسا کہ تم نے ذکر کیا شفعہ شرکت فی المکان اور نومین اور شرکت راہ سے تو لازم ہوتا ہے یہ جوار والا شفعہ کہاں سے نکال لیا۔
جواب : ان روایات سے واجب ہوا ہے۔