۵۹۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ : أَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ، عَنْ (أَوْسِ بْن أَبِیْ أَوْسٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِیْ فِیْ سَفَرٍ وَنَزَلْنَا بِمَائٍ مِنْ مِیَاہِ الْأَعْرَابِ، فَبَالَ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْہِ .فَقُلْتُ لَہٗ أَتَفْعَلُ ھٰذَا .فَقَالَ : مَا أَزِیْدُکَ عَلٰی مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلَی الْمَسْحِ عَلَی النَّعْلَیْنِ، کَمَا یُمْسَحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ، وَقَالُوْا : قَدْ شَدَّ، ذٰلِکَ مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ
٥٩١: اوس بن ابی اوس (رض) سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ سفر میں تھا ہم ایک تالاب کے پاس اترے انھوں نے پیشاب سے فراغت حاصل کی پھر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا میں نے کہا کیا آپ نعلین پر مسح کرتے ہیں انھوں نے کہا میں اس فعل میں اضافہ نہیں کررہا جس پر میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جس طرح موزوں پر مسح کیا جاتا ہے اسی طرح جوتوں پر بھی مسح کیا جائے گا اور اس کی دلیل کے طور پر انھوں نے کہا اس بات کی تائید حضرت علی (رض) کی مندرجہ ذیل روایت سے ہوتی ہے۔
تخریج : طبرانی ١؍٢٢٢‘ مسند احمد ٤؍١٠۔