hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 592

.

الطحاوي

592
Al Tahawi
۵۹۲ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، وَوَہْبٌ قَالَا : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ أَبِیْ ظَبْیَانَ، أَنَّہٗ رَأٰیْ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْہِ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ، ثُمَّ صَلّٰی .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : لَا نَرَی الْمَسْحَ عَلَی النَّعْلَیْنِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْنِ تَحْتَہُمَا جَوْرَبَانِ، وَکَانَ قَاصِدًا بِمَسْحِہٖ ذٰلِکَ إِلٰی جَوْرَبَیْہِ، لَا إِلٰی نَعْلَیْہِ وَجَوْرَبَاہُ مِمَّا لَوْ کَانَا عَلَیْہِ بِلَا نَعْلَیْنِ، جَازَ لَہٗ أَنْ یَمْسَحَ عَلَیْہِمَا، فَکَانَ مَسْحُہٗ ذٰلِکَ مَسْحًا أَرَادَ بِہٖ الْجَوْرَبَیْنِ، فَأَتَیْ ذٰلِکَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ فَکَانَ مَسْحُہٗ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ ہُوَ الَّذِیْ تَطَہَّرَ بِہٖ، وَمَسْحُہٗ عَلَی النَّعْلَیْنِ فَضْلٌ .وَقَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ ۔
٥٩٢: سلمہ بن کہیل ابو ظبیان سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے نعلین اتار کر نماز ادا فرمائی۔ دیگر علماء نے اس سلسلہ میں ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جوتوں پر ہرگز مسح جائز نہیں ‘ اس کی دلیل کے طور پر انھوں نے کہا ہے کہ یہ بات بالکل ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتوں پر مسح موزوں کی بناء پر کیا ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دراصل موزوں پر مسح کیا نہ کہ جوتوں پر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موزے بھی اس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو جوتوں کے بغیر پہنا جائے تو ان پر مسح ہوسکتا ہے تو جوتوں پر مسح سے مقصود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا موزوں پر مسح کرنا تھا۔ پس حصول طہارت کے لیے تو مسح موزوں پر تھا اور جوتوں کا مسح زائد تھا اور ہمارے قول کی شہادت مندرجہ ذیل روایت دے رہی ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍١٩٠۔
حاصل روایات :
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نعلین پر مسح درست ہے جیسا کہ ان صحابہ (رض) کا عمل ظاہر کررہا ہے۔
فریق ثانی :
نعلین پر مسح مستقلاً درست نہیں۔
روایات کا جواب :
ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعلین کے نیچے جو راب پہن رکھے ہوں اور اصل مسح جو راب پر تھا چنانچہ اس کے لیے نعل اتارنے کی چنداں ضرورت نہیں نعل سمیت مسح کرلیا تو اصل مسح جراب کا ہے جو غسل کی جگہ کام دیتا ہے نعلین پر مسح تو زائد چیز ہے مندرجہ ذیل روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے۔