۵۹۱۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَیِّصَۃَ أَحَدِ بَنِیْ حَارِثَۃَ عَنْ أَبِیْھَافَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا أَنَّ مَا کَانَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْاِبَاحَۃِ فِیْ ہٰذَا اِنَّمَا کَانَ بَعْدَمَا نَہَاہُ عَنْہُ نَہْیًا عَامًّا مُطْلَقًا عَلٰی مَا فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ .وَفِیْ اِبَاحَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُطْعِمَہُ الرَّقِیْقَ أَوْ النَّاضِحَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ لَیْسَ بِحَرَامٍ .أَلَا تَرَی أَنَّ الْمَالَ الْحَرَامَ الَّذِی لَا یَحِلُّ أَکْلُہُ لَا یَحِلُّ لَہٗ أَنْ یُطْعِمَہُ رَقِیْقَہُ وَلَا نَاضِحَہُ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِی الرَّقِیْقِ أَطْعِمُوْھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ .فَلَمَّا ثَبَتَ اِبَاحَۃُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمُحَیَّصَۃَ أَنْ یَعْلِفَ ذٰلِکَ نَاضِحَہُ وَیُطْعِمَ رَقِیْقَہُ مِنْ کَسْبِ حَجَّامِہِ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی نَسْخِ مَا تَقَدَّمَ مِنْ نَہْیِہِ عَنْ ذٰلِکَ وَثَبَتَ حِلُّ ذٰلِکَ لَہٗ وَلِغَیْرِہٖ۔ وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .وَہٰذَا ہُوَ النَّظَرُ عِنْدَنَا أَیْضًا لِأَنَّا قَدْ رَأَیْنَا الرَّجُلَ یَسْتَأْجِرُ الرَّجُلَ یَفْصِدُ لَہٗ عِرْقًا أَوْ یَبْزُغَ لَہٗ حِمَارًا فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ جَائِزًا وَالْاِسْتِئْجَارُ عَلٰی ذٰلِکَ جَائِزٌ فَالْحِجَامَۃُ أَیْضًا کَذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَمَّنْ بَعْدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا
٥٩١٨: حرام بن محیصہ بنی حارثہ سے تھے انھوں نے اپنے والد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ ان روایات سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ اباحت ممانعت کے بعد تھی اور وہ ممانعت عام اور مطلق تھی۔ جیسا کہ پہلے آثار اس پر دلالت کرتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمانا کہ اسے اپنے غلام یا پانی والے اونٹ کو کھلا دو ۔ یہ واضح دلیل ہے کہ یہ حرام نہ تھی ذرا غور تو فرمائیں کہ جو مال حرام ہے وہ اپنے غلام کو کھلانا اور اپنے پانی والے اونٹ کو کھلانا بھی جائز نہیں۔ کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلاموں کے سلسلہ میں فرمایا : اطعموہم مماتأکلون “ (بخاری فی الزہد : ٧٤) پس جب محیصہ (رض) کے لیے اس کی اباحت ثابت ہوگئی کہ وہ اپنے پانی والے اونٹ کو کھلائیں یا اپنے غلام کو اپنے حجام کی اجرت کھلائیں اس سے سابقہ نہی کا نسخ معلوم ہوتا ہے اور اس اجرت کی اس کے لیے اور دوسروں کے لیے حلت ثابت ہوئی۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ہمارے نزدیک نظر کا تقاضا بھی یہی ہے کہ یہ حلال ہو۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی کسی سے اجارے کا معاملہ کرتا ہے اور اپنی رگ میں اس سے فصد کھلواتا ہے یا تو یہ جائز ہوگا اور اس پر حصول اجرت بھی جائز ہے حجامت کا بھی یہی حال ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد صحابہ کرام سے بھی اس کی اباحت مروی ہے۔
تخریج : بخاری فی الزہد ٧٤‘ مسند احمد ٤؍٣٦‘ ٣؍١٦٨۔
اقوال صحابہ کرام (رض) سے تائید :
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد صحابہ کرام سے بھی اس کی اباحت مروی ہے۔