۵۹۲۲: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ أَبِی الْعَلَائِ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشَّخِیرِ عَنْ أَبِیْ مُسْلِمٍ الْجُذَامِیِّ عَنِ الْجَارُوْدِ أَنَّہٗ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ ضَالَّۃَ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ
٥٩٢٢: ابو مسلم جذامی نے حضرت جارود (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ مؤمن کی گمشدہ چیز وہ آگ کی جلن ہے۔
تخریج : ترمذی فی الاشربہ باب ١١‘ ابن ماجہ فی اللقطہ باب ١‘ دارمی فی البیوع باب ٦١‘ مسند احمد ٤؍٥‘ ٢٥؍٨٠۔
کسی گری پڑی چیز کو اٹھانے کے متعلق بعض لوگ تو مطلقاً ناجائز قرار دیتے ہیں اور بعض متقدمین نے اس کے اٹھانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ اس چیز کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو اسے اٹھالینا پڑے رہنے اور چھوڑنے سے بہتر ہے۔ امام شافعی (رح) کا قول بھی یہی ہے تمام جگہ کے لقطہ کا حکم یکساں ہے اگر تشہیر پر بھی مالک نہ ملے تو ضرورت مند خود استعمال کرے ورنہ بیت المال میں جمع کرا دے یا کسی غریب پر مالک کی نیت سے صرف کر دے۔