۵۹۲۴: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَفَّانَ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ حُمَیْدٌ الطَّوِیْلُ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشَّخِیرِ عَنْ أَبِیْہَ أَنَّہٗ قَالَ : قَدْ کُنَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ .فَقَالَ لَنَا أَلَا أَحْمِلُکُمْ ؟ فَقُلْتُ : اِنَّا نَجِدُ فِی الطَّرِیْقِ ہَوَامِّی الْاِبِلِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ ضَالَّۃَ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ .فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الضَّوَالَّ حَرَامٌ أَخْذُہَا عَلَی کُلِّ حَالٍ لِلتَّعْرِیفِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : اِنَّہٗ لَمْ یُرِدْ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا قَدْ ذَکَرْنَا فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ تَحْرِیْمَ أَخْذِ الضَّالَّۃِ لِلتَّعْرِیفِ وَاِنَّمَا أَرَادَ أَخْذَہَا لِغَیْرِ ذٰلِکَ .
٥٩٢٤: حسن نے مطرف بن شخیر سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ہم بنی عامر کے ایک وفد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا کیا میں تمہیں سواری نہ دوں ؟ میں نے کہا ہم راہ میں اونٹوں کا گلہ پاتے ہیں تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مؤمن کا گمشدہ آگ کی جلن ہے۔ گمشدہ چیز کا کسی صورت لینا بھی حرام ہے خواہ تشہیر وغیرہ کے لیے کیوں نہ ہو۔ انھوں نے مندرجہ بالا آثار کو دلیل بنایا ہے۔ ان آثار میں آپ کی یہ ہرگز مراد نہیں کہ تشہیر کے لیے بھی ان کا لینا حرام ہے بلکہ اس کے علاوہ مقاصد کو سامنے رکھ کرلینا حرام ہے جیسا آئندہ روایات اس کو واضح کرتی ہیں۔
فریق اول کا مؤقف : گمشدہ چیز کا کسی صورت لینا بھی حرام ہے خواہ تشہیر وغیرہ کے لیے کیوں نہ ہو۔ انھوں نے مندرجہ بالا آثار کو دلیل بنایا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور فریق اول کا جواب : ان آثار میں آپ کی یہ ہرگز مراد نہیں کہ تشہیر کے لیے بھی ان کا لینا حرام ہے بلکہ اس کے علاوہ مقاصد کو سامنے رکھ کرلینا حرام ہے جیسا آئندہ روایات اس کو واضح کرتی ہیں۔