hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5926

.

الطحاوي

5926
Al Tahawi
۵۹۲۵: وَقَدْ بَیَّنَ مَا ذَہَبُوْا اِلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ مَا حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشَّخِیرِ عَنْ أَبِیْ مُسْلِمٍ الْجُذَامِیِّ عَنِ الْجَارُوْدِ أَنَّہٗ قَالَ : کُنَّا أَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عَلَی اِبِلٍ عِجَافٍ .فَقُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا نَمُرُّ بِالْجُرُفِ فَنَجِدُ اِبِلًا فَنَرْکَبُہَا فَقَالَ اِنَّ ضَالَّۃَ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ .فَکَانَ سُؤَالُہُمْ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَخْذِہَا لَأَنْ یَرْکَبُوْہَا لَا لَأَنْ یُعَرِّفُوْہَا فَأَجَابَہُمْ بِأَنْ قَالَ ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ أَیْ : اِنَّ ضَالَّۃَ الْمُسْلِمِ حُکْمُہَا أَنْ یُحْفَظَ عَلٰی صَاحِبِہَا حَتّٰی تُؤَدَّیْ اِلٰی صَاحِبِہَا لَا لَأَنْ یُنْتَفَعَ بِہَا لِرُکُوْبٍ وَلَا لِغَیْرِ ذٰلِکَ .فَبَانَ بِذٰلِکَ مَعْنٰی ہٰذَا الْحَدِیْثِ وَأَنَّ ذٰلِکَ عَلٰی مَا قَدْ ذَکَرْنَا .وَقَدْ کَانَ مِمَّا احْتَجَّ بِذٰلِکَ أَیْضًا مَنْ قَدْ حَرَّمَ أَخْذَ الضَّالَّۃِ مِنْ ذٰلِکَ
٥٩٢٥: ابو مسلم جذامی نے حضرت جارود (رض) سے نقل کیا ہے کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کمزور اونٹوں پر سواری کی حالت میں پہنچے ہم نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارا گزر سیلاب کی گزرگاہ کے پاس سے ہوتا ہے وہاں ہم اونٹ پاتے ہیں کیا ہم ان پر سوار ہوجائیں آپ نے فرمایا مؤمن کا گمشدہ آگ کی جلن ہے۔ اس وفد کے افراد کا سوال سواری کے لیے تھا تشہیر کرانے کے لیے لینے کا سوال نہ تھا تو آپ نے ان کو فرمایا ” ضالۃ المسلم حرق النار “ یعنی مؤمن کے گمشدہ کا حکم یہ ہے کہ اس کے مالک کے لیے اس کی حفاظت کی جائے یہاں تک کہ اس کا حق اسے پہنچ جائے اس لیے اس کو پکڑنا جائز نہیں کہ اس پر سواری کرے یا اور کوئی فائدہ اٹھائے۔
فریق اوّل کی دلیل :