hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5927

.

الطحاوي

5927
Al Tahawi
۵۹۲۶: مَا قَدْ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حَیَّانَ التَّمِیْمِیُّ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنِ الْمُنْذِرِ أَنَّہٗ قَالَ : قَدْ کُنْتُ بِالْبَوَازِیجِ مَوْضِعٌ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَی فِیْہَا جَرِیْرٌ بَقَرَۃً أَنْکَرَہَا .فَقَالَ لِلرَّاعِی : مَا ہٰذِہِ الْبَقَرَۃُ ؟ قَالَ : بَقَرَۃٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لَا أَدْرِی لِمَنْ ہِیَ ؟ فَأَمَرَ بِہَا جَرِیْرٌ فَطُرِدَتْ حَتّٰی تَوَارَتْ .ثُمَّ قَالَ : قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لَا یَأْوِی الضَّالَّۃَ اِلَّا ضَالٌّ .قَالُوْا : فَہٰذَا الْحَدِیْثُ أَیْضًا یُحَرِّمُ أَخْذَ الضَّالَّۃِ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ لِلْآخَرِیْنَ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّہٗ قَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ ہُوَ ذٰلِکَ الْاِیْوَائَ الَّذِی لَا تَعْرِیْفَ مَعَہٗ۔ فَاِنَّہٗ قَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٩٢٦: ضحاک بن منذر نے حضرت منذر (رض) سے روایت کی ہے کہ میں مقام بواریج میں تھا شام کو گائیں واپس لوٹ کر آئیں تو حضرت جریر (رض) نے ان میں ایک اجنبی گائے کو دیکھا۔ چرواہے سے دریافت کیا یہ کیسی گائے ہے ؟ اس نے کہا کسی کی گائے گائیوں کے ساتھ آگئی ہے مجھے علم نہیں کہ یہ کس کی ہے۔ حضرت جریر (رض) نے فرمایا اس کو دور چھوڑ آئیں یہاں تک کہ غائب ہوجائے پھر فرمایا میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ نے فرمایا گمشدہ کو گمراہ آدمی ٹھکانا دیتا ہے۔ یہ روایت بھی مؤقف اول کی تائید کرتی ہے اور گمشدہ چیز کو پکڑنا حرام قرار دیتی ہے۔ اس روایت میں یہ احتمال ہے کہ اس پکڑنے والے کو گمراہ قرار دیا گیا جو تعریف کی غرض نہ رکھتا ہو جیسا کہ یہ روایت اس کی مؤید ہے۔ ملاحظ ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی اللقطہ ابن ماجہ فی اللقطہ باب ١‘ مسند احمد ٤؍٣٦٠۔
حاصل روایت : یہ روایت بھی مؤقف اول کی تائید کرتی ہے اور گمشدہ چیز کو پکڑنا حرام قرار دیتی ہے۔
فریق ثانی کا جواب : اس روایت میں یہ احتمال ہے کہ اس پکڑنے والے کو گمراہ قرار دیا گیا جو تعریف کی غرض نہ رکھتا ہو جیسا کہ یہ روایت اس کی مؤید ہے۔ ملاحظ ہو۔