hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5937

.

الطحاوي

5937
Al Tahawi
۵۹۳۶: مَا قَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ کِلَاہُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَیْنَۃَ أَتَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہٗ فَقَالَ لَہٗ : یَا نَبِیَّ اللّٰہِ کَیْفَ تَرَی فِیْ ضَالَّۃِ الْغَنَمِ ؟ .فَقَالَ طَعَامٌ مَأْکُوْلٌ لَک أَوْ لِأَخِیْک أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلٰی أَخِیْک ضَالَّتَہٗ۔ فَقَالَ لَہٗ : یَا نَبِیَّ اللّٰہِ وَکَیْفَ تَرَی فِیْ ضَالَّۃِ الْاِبِلِ ؟ فَقَالَ مَا لَکَ وَمَا لَہَا ؟ مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا وَلَا یَخَافُ عَلَیْہَا الذِّئْبُ تَأْکُلُ الْکَلَأَ وَتَرِدُ الْمَائَ دَعْہَا حَتّٰی یَأْتِیَ طَالِبُہَا .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَیْضًا اِبَاحَۃُ أَخْذِ الضَّوَالِّ الَّتِی قَدْ یُخَافُ عَلَیْہَا الضَّیَاعُ وَحَبْسُہَا لَہٗ۔فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَعْنَی قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ ضَالَّۃَ الْمُسْلِمِ أَوْ الْمُؤْمِنِ حَرْقُ النَّارِ وَقَوْلُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَأْوِیْ أَوْ یُؤْوِی الضَّالَّۃَ اِلَّا ضَالٌّ اِنَّمَا أَرَادَ بِذٰلِکَ الْاِیْوَائَ الَّذِی لَا تَعْرِیْفَ مَعَ ذٰلِکَ وَالْأَخْذُ الَّذِی لَا تَعْرِیْفَ مَعَ ذٰلِکَ أَیْضًا اللَّذَیْنِ ہُمَا ضِدُّ الْحَبْسِ عَلٰی صَاحِبِ الضَّوَالِّ حَتّٰی یَتَّفِقَ مَعْنَیْ حَدِیْثِنَا ہٰذَا وَمَعْنٰی ذٰیْنِک الْحَدِیْثَیْنِ وَلَا یَتَضَادَّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ وَذَیْنِکَ الْحَدِیْثَیْنِ أَیْضًا .وَفِیْمَا قَدْ بَیَّنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْاِبِلِ بِقَوْلِہٖ مَا لَکَ وَمَا لَہَا ؟ مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا وَلَا یَخَافُ الذِّئْبُ عَلَیْہَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ لَمْ یُطْلِقْ لَہٗ أَخْذَہَا لِعَدَمِ الْخَوْفِ عَلَیْہَا .وَفِیْ اِبَاحَتِہِ لِأَخْذِ الشَّاۃِ لِخَوْفِہِ عَلَیْہَا مِنْ الذِّئْبِ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ النَّاقَۃَ کَذٰلِکَ أَیْضًا اِذَا خِیْفَ عَلَیْہَا مِنْ غَیْرِ الذِّئْبِ وَأَنَّ أَخْذَہَا لِصَاحِبِہَا وَحِفْظَہَا عَلَی رَبِّہَا أَوْلَی مِنْ تَرْکِہَا وَذَہَابِہَا .وَقَدْ جَائَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ حُکْمَ الضَّالَّۃِ کَحُکْمِ اللُّقَطَۃِ فِیْ ذٰلِکَ وَہُوَ
٥٩٣٦: عمرو بن شعیب عن ابیہ انھوں نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کی ہے کہ مزینہ قبیلہ کا ایک آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور آپ سے پوچھنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! گمشدہ بکری میں آپ کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا وہ تیری خوراک ہوگی یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیئے کی۔ اپنے بھائی کے لیے اس کی گمشدہ چیز کو روک رکھو۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ گمشدہ اونٹ کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ تمہیں اس سے کیا غرض ؟ اس کے پاس مشک اور موزہ موجود ہے اور اسے بھیڑیئے کا کوئی خطرہ نہیں وہ گھاس کھائے گا اور پانی کے گھاٹ پر جائے گا اس کو چھوڑ د ویہاں تک کہ اس کا مالک و طالب اس کو آ لے۔ یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ گمشدہ جانور کو پکڑ کر روک لیا جائے خصوصاً وہ جانور جن کے ضیاع کا احتمال قوی ہو۔ پس اس کے مطابق آپ کے ارشاد ” ان ضالۃ المسلم حرق النار “ اور ” لایاوی الضالۃ الاضال “ کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے مراد وہ ٹھکانا دینا ہے جس میں تشہیر مقصود نہ ہو اور وہ پکڑنا جس میں لوگوں میں تشہیر مطلوب نہ تھی یہ دونوں حالتیں مالک کے لیے حفاظت کرنے کے خلاف ہیں یہ مفہوم اس لیے لیا جائے گا تاکہ ان روایات کا دیگر روایات سے تضاد نہ رہے اور اونٹ کے متعلق آپ کا یہ فرمانا تمہیں اس سے کیا غرض اس کے ساتھ مشک اور موزہ موجود ہے اس کے متعلق بھیڑیئے کا خوف نہیں ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو پکڑنے کی ممانعت عدم خوف ہلاکت ہے اور بکری کے لیے اجازت کی وجہ بھیڑیئے کا خطرہ ہے اس سے یہ دلیل مل گئی کہ اونٹنی کا حکم بھی یہی ہے اگر اس میں بھیڑیئے کے علاوہ کسی اور چیز کے پکڑنے کا خوف ہو۔ تو اسے چھوڑنے اور ضائع کی بجائے پکڑنا اور مالک کے لیے محفوظ کرنا بہتر و اولیٰ ہوگا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی ر وایات وارد ہیں جن سے گمشدہ اور لقطہ کا حکم ایک جیسا ثابت ہوتا ہے۔ لقطہ اور گمشدہ کا حکم ایک جیسا ہے جیسا ان روایات میں ہے۔