hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5938

.

الطحاوي

5938
Al Tahawi
۵۹۳۷: مَا قَدْ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ أَبِی الْعَلَائِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ سُئِلَ عَنْ الضَّالَّۃِ فَقَالَ عَرِّفْہَا فَاِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَہَا وَاِلَّا فَہِیَ مَالُ اللّٰہِ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ تَعْرِیْفَہَا وَاجِبٌ وَمُعَرِّفَہَا فِیْ حَالِ تَعْرِیفِہِ اِیَّاہَا مُمْسِکٌ لَہَا وَمُؤْوٍ اِیَّاہَا لِصَاحِبِہَا وَلَمْ یُؤْمَرْ بِتَرْکِ ذٰلِکَ .فَدَلَّ ہٰذَا أَنَّ الْاِمْسَاکَ الْمَنْہِیَّ عَنْہُ عَنْ ذٰلِکَ فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِنَّمَا ہُوَ الْاِمْسَاکُ الَّذِی لَمْ یَفْعَلْہُ الْمُمْسِکُ لِنَفْسِہِ لَا لِرَبِّ الضَّالَّۃِ فِیْ ذٰلِکَ .فَہٰذَا مَا فِی الضَّوَالِّ مِنَ الْأَحْکَامِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی اللُّقَطَۃِ أَنَّہٗ قَدْ أَمَرَ بِالْاِشْہَادِ عَلَیْہَا وَتَرْکِ کِتْمَانِہَا مِمَّا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ
٥٩٣٧: ابوالعلاء نے عیاض بن حمار (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ چیز کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کو مشہور کرو اگر اس کا مالک مل جائے تو مناسب ہے ورنہ یہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے۔ یہ حدیث ثابت کر رہی ہے کہ اس کی مشہوری ضروری ہے اور تشہیر کرنے والا دوران تشہیر اپنے پاس رکھے اور مالک کے لیے اس چیز کو محفوظ کرے اس کو چھوڑنے کا حکم نہیں فرمایا گیا۔ اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ اس پکڑنے سے روکا گیا ہے جس کو پکڑنے والا اس چیز کے مالک کے لیے نہ پکڑے بلکہ اپنے لیے پکڑے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ کا یہی حکم منقول ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لقطہ پر گواہ قائم کرنے اور اس کو ظاہر کرنے اور کتمان نہ کرنے کا حکم فرمایا۔ جیسا ان روایات میں ہے۔