hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5954

.

الطحاوي

5954
Al Tahawi
۵۹۵۳: قَدْ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْعَالِیَۃِ امْرَأَۃِ أَبِیْ اِسْحَاقَ أَنَّہَا قَالَتْ : کُنْتُ عِنْدَ عَائِشَۃَ فَأَتَتْہَا امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ لَہَا : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ اِنِّیْ وَجَدْتُ ضَالَّۃً فَکَیْفَ تَأْمُرِینِیْ أَنْ أَصْنَعَ بِہَا ؟ .فَقَالَتْ : عَرِّفِیْہَا وَاعْلِفِیْ وَاحْتَلِبِی قَالَتْ : ثُمَّ عَادَتْ فَسَأَلَتْہَا فَقَالَتْ عَائِشَۃُ تُرِیْدِیْنَ آمُرُک بِبَیْعِہَا أَوْ نَزْعِہَا ؟ لَیْسَ ذٰلِکَ لَک .فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا التَّسْوِیَۃُ بَیْنَ حُکْمِ الضَّوَالِّ وَاللُّقَطَۃِ وَہٰذَا کُلُّہٗ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی - فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ لُقَطَۃِ مَکَّۃَ وَضَالَّتِہَا
٥٩٥٣: عالیہ ابو اسحق کی زوجہ کہتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس تھی تو ان کے پاس ایک عورت آ کر کہنے لگی اے امّ المؤمنین ! میں نے گمشدہ چیز پائی ہے آپ اس کے متعلق کیا حکم دیتی ہیں۔ انھوں نے فرمایا۔ اس کی تشہیر کرو اور چارہ ڈالو اور دودھ دوھ لو۔ وہ پھر لوٹ کر پوچھنے لگی تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا تم ارادہ رکھتی ہو کہ میں تمہیں اس کی فروخت کا حکم دوں یا اس کو چھوڑنے کا کہوں۔ اس کا تمہیں اختیار نہیں۔ ان روایات سے یہ بات ثابت ہوگئی گمشدہ اور لقطہ کا حکم تمام احوال میں ایک جیسا ہی ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن حسن رحمہم اللہ کا اس سلسلہ میں قول ہے۔
مکہ کے لقطہ و گمشدہ کا حکم :