۵۹۶۲: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : مُرَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ بِرَجُلٍ قَدْ حُمِّمَ وَجْہُہُ وَقَدْ ضُرِبَ یُطَافُ بِہٖ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ ہٰذَا قَالُوْا : زَنَی قَالَ فَمَا تَجِدُوْنَ فِیْ کِتَابِکُمْ قَالُوْا : یُحَمَّمُ وَجْہُہُ وَیُعَزَّرُ وَیُطَافُ بِہٖ .فَقَالَ أَنْشُدُکُمُ اللّٰہَ مَا تَجِدُوْنَ حَدَّہُ فِیْ کِتَابِکُمْ ؟ فَأَشَارُوْا اِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ فَسَأَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ نَجِدُ فِی التَّوْرَاۃِ الرَّجْمَ وَلٰـکِنَّہٗ کَثُرَ فِیْ أَشْرَافِنَا فَکَرِہْنَا أَنْ نُقِیْمَ الْحَدَّ عَلٰی سَفَلَتِنَا وَنَدَعَ أَشْرَافَنَا فَاصْطَلَحْنَا عَلٰی شَیْئٍ فَوَضَعْنَا ہٰذَا .فَرَجَمَہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَنَا أَوْلَی مَنْ أَحْیَا مَا أَمَاتُوْا مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ .فَفِیْ ہٰذَا مَا یَدُلُّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ لَہٗ أَنْ یَحْکُمَ بَیْنَہُمْ وَاِنْ لَمْ یُحَکِّمُوْھُ لِأَنَّ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہُمْ مَرُّوْا بِہٖ وَہُوَ مُحَمَّمٌ فَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیْثِ ثُمَّ رَجَمَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَلَمَّا دَعَاہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - اِنْکَارًا لِمَا فَعَلُوْھُ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتُوْھُ فَرَدَّ أَمْرَہُمْ اِلَی حُکْمِ اللّٰہِ الَّذِی قَدْ عَطَّلُوْھُ وَغَیَّرُوْھُ - ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ قَدْ کَانَ لَہٗ أَنْ یَحْکُمَ فِیْمَا بَیْنَہُمْ حَکَّمُوْھُ أَوْ لَمْ یُحَکِّمُوْھُ .فَہٰذَا مَا فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ مِنْ الدَّلَائِلِ عَلٰی مَا قَدْ تَکَلَّمْنَا عَلَیْہِ .وَأَمَّا قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَاِنْ جَائُ وْک فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ فَاِنَّ الَّذِیْ ذَہَبُوْا فِیْہِ اِلَی تَثْبِیتِ الْحُکْمِ یَقُوْلُوْنَ : ہِیَ مَنْسُوْخَۃٌ .
٥٩٦٢: عبداللہ بن مرہ نے حضرت برائ (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزارا گیا جس کا چہرہ سیاہ کیا گیا تھا اور اس کو گھمایا اور پیٹا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس کا کیا معاملہ ہے تو انھوں نے کہا اس نے زنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا تمہاری کتاب میں کیا حکم ہے۔ انھوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا تو اس سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تو وہ آدمی کہنے لگا ہم اپنی کتاب میں رجم کا حکم پاتے ہیں مگر ہم سرداروں میں زنا کی کثرت ہوگئی پس ہم نے اپنے کم درجہ لوگوں پر حد کا قیام بھی ناپسند کیا اور سرداروں کو بالکل چھوڑنا بھی ناپسند کیا ہم نے باہمی ایک چیز پر صلح کرلی اور اس سزا کو ختم کردیا آپ نے اس کو رجم کیا اور فرمایا جس حد کو انھوں نے مردہ کردیا میں اسے زندہ کرنے کا زیادہ حقدار ہوں۔ تو اس روایت میں یہ دلالت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق حاصل تھا کہ ان کے مابین فیصلہ کریں خواہ وہ آپ کو فیصل نہ بنائیں۔ یہ روایت بتلاتی ہے کہ ایسا شخص آپ کے پاس سے گزرا جس کا منہ سیاہ کیا گیا تھا پھر باقی روایت اسی طرح ہے۔ پھر آپ نے اس کو سنگ سار کیا۔ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اس عمل کا انکار کرتے ہوئے جو آپ کے پاس آنے سے پہلے وہ کرچکے تھے آپ نے ان کو بلایا تو آپ نے ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پھیرا جس کو انھوں نے معطل کردیا تھا اور بدل ڈالا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ کو ان کے درمیان فیصلہ کا حق حاصل تھا خواہ وہ مقدمہ لائیں یا نہ لائیں۔ مذکورہ بالا روایات میں یہ دلائل موجود ہیں جن پر ہم نے گفتگو کی ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کی آیت ” فان جاؤک فاحکم بینہم او اعرض عنہم “ کا تعلق ہے تو جن کے ہاں یہ حکم ثابت ہے وہ اس آیت کو منسوخ مانتے ہیں۔
تخریج : مسلم فی الحدود ٢٨‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٢٥‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٨‘ مسند احمد ٤؍٢٨٦۔