hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5976

.

الطحاوي

5976
Al Tahawi
۵۹۷۵: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ وَأَبُو الْوَلِیْدِ قَالَا : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرٍو فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَقُلْ وَالَّذِی ہُوَ خَیْرٌ .فَہٰکَذَا یَنْبَغِی لِلنَّاسِ أَنْ یَفْعَلُوْا وَأَنْ یُحْسِنُوْا تَحْقِیْقَ ظُنُوْنِہِمْ وَلَا یَقُوْلُوْنَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَّا بِمَا قَدْ عَلِمُوْھُ فَاِنَّہُمْ مَنْہِیُّوْنَ عَنْ ذٰلِکَ مُعَاقَبُوْنَ عَلَیْہِ .وَکَیْفَ یَجُوْزُ لِأَحَدٍ أَنْ یَحْمِلَ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی مَا حَمَلَہٗ عَلَیْہِ ہٰذَا الْمُخَالِفُ وَقَدْ وَجَدْنَا کِتَابَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَدْفَعُہُ ثُمَّ السُّنَّۃَ الْمُجْمَعَ عَلَیْہَا تَدْفَعُہُ أَیْضًا ؟ .فَأَمَّا کِتَابُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ فَاسْتَشْہِدُوْا شَھِیْدَیْنِ مِنْ رِجَالِکُمْ فَاِنْ لَمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ وَقَالَ وَأَشْہِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِنْکُمْ .وَقَدْ کَانُوْا قَبْلَ نُزُوْلِ ہَاتَیْنِ الْآیَتَیْنِ لَا یَنْبَغِی لَہُمْ أَنْ یَقْضُوْا بِشَہَادَۃِ أَلْفِ رَجُلٍ وَلَا أَکْثَرَ مِنْہُمْ وَلَا أَقَلَّ لِأَنَّہٗ لَا یُوْصَلُ بِشَہَادَتِہِمْ اِلٰی حَقِیْقَۃِ صِدْقِہِمْ .فَلَمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مَا ذَکَرْنَا قَطَعَ بِذٰلِکَ الْعُذْرَ وَحَکَمَ بِمَا أَمَرَ بِہٖ عَلٰی مَا تَعَبَّدَ بِہٖ خَلْقَہُ وَلَمْ یَحْکُمْ بِمَا ہُوَ أَقَلُّ مِنْ ذٰلِکَ لِأَنَّہٗ لَمْ یَدْخُلْ فِیْمَا تَعَبَّدُوْا بِہٖ .أَمَّا السُّنَّۃُ الْمُتَّفَقُ عَلَیْہَا فَہِیَ أَنْ لَا یَحْکُمَ بِشَہَادَۃِ جَارٍ اِلَی نَفْسِہِ مَغْنَمًا وَلَا دَافَعَ عَنْہَا مَغْرَمًا .فَالْحُکْمُ بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاہِدِ الْوَاحِدِ عَلٰی مَا حَمَلَ عَلَیْہِ ہٰذَا الْمُخَالِفُ لَنَا حَدِیْثُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِ حُکْمٌ لِمُدَّعِیْ یَمِیْنِہِ فَذٰلِکَ حُکْمٌ لِجَارٍ اِلَی نَفْسِہِ بِیَمِیْنِہٖ۔ فَہٰذِہِ سُنَّۃٌ مُتَّفَقٌ عَلَیْہَا تَدْفَعُ الْحُکْمَ بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاہِدِ مَعَ مَا قَدْ دَفَعَہُ أَیْضًا مِمَّا قَدْ ذَکَرْنَا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی . فَأَوْلَی الْأَشْیَائِ بِنَا أَنْ نَصْرِفَ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی مَا یُوَافِقُ کِتَابَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالسُّنَّۃَ الْمُتَّفَقَ عَلَیْہَا لَا اِلٰی مَا یُخَالِفُہَا أَوْ یُخَالِفُ أَحَدَہُمَا .وَلَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَصًّا مَا یَدْفَعُ الْقَضَائَ بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاہِدِ عَلٰی مَا ادَّعَیْ ہٰذَا الْمُخَالِفُ لَنَا .
٥٩٧٥: وہب اور ابوالولید دونوں نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے عمرو پھر اپنی سند سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ ” والذی ہو خیر “ کے الفاظ مذکور نہیں۔ اسی طرح لوگوں کو ایسا کرنا اور اپنے گمانوں کو عمدہ بنانا چاہیے ان کو اچھی طرح معلوم ہونے کے بغیر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کوئی بات نہ کہنی چاہیے۔ کیونکہ ان کو اس بات سے منع کیا گیا ہے اور اس پر ان کو سزا بھی دی جائے گی کس کے لیے کس طرح مناسب ہے کہ وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کی وہ مراد بتلائے جو کہ ہمارے مخالف نے لی ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید اس مفہوم کی تردید کرتا ہے پھر متفق علیہ سنت بھی اس کی تردید کرتی ہے۔ قرآن مجید کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیں واشہدوا شہیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامرأتان (البقرہ۔ ٢٨٢) اور فرمایا ” واشہدوا ذوی عدل منکم “ (الطلاق۔ ٢) ان دو آیات کے نزول سے پہلے ان کے لیے جائز نہ تھا کہ وہ ایک ہزار مردوں یا ان سے کم اور زیادہ کی گواہی سے فیصلہ کرتے کیونکہ ان کی گواہی سے پتہ نہیں چلتا کہ کون حقیقت میں سچا ہے۔ جب یہ مذکورہ بالا آیات نازل فرمائیں تو عذر جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اتنی تعداد کا ذکر فرمایا جو عبادت کو قائم کرسکے اس سے کم کا حکم نہیں فرمایا کیونکہ وہ ان کی (اجتماعی) عبادت کی تعداد میں داخل نہیں۔ اتفاقی سنت کے بھی خلاف ہے : اتفاقی سنت یہ ہے کہ ایسے شخص کی گواہی سے فیصلہ نہ کیا جائے جو اپنے لیے نفع کھینچنے والا ہو اور نہ اس کی گواہی سے جو اپنے اوپر سے تاوان کو دور کرنے والا ہو۔ پس ایک گواہ کے ساتھ قسم کے ذریعہ فیصلہ کرنا جیسا کہ ہمارے مخالف نے اس روایت کا مفہوم لیا ہے کہ اس میں مدعی کی قسم کا ذکر ہے یہ تو قسم کے ساتھ اپنے لیے نفع حاصل کرنے والے کے حق میں فیصلہ کرنے کے مترادف ہے تو یہ متفق علیہ سنت ہے جو گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کرنے کو رد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہم نے قرآن مجید کا حکم بیان کیا ہے وہ بھی اس کی نفی کرتا ہے پس ہمارے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کو اس معنی پر محمول کریں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتفاقی سنت اور قرآن مجید کے مطابق ہو۔ اس معنی پر محمول نہ کرنا چاہیے جو اس سنت یا ان میں سے کسی ایک کے مخالف ہو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واضح طور پر روایت وارد ہے جو ایک گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلے کی نفی کرتی ہے جس کا دعویٰ ہمارے مخالف کو ہے۔
ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کے خلاف روایت :