۵۹۷۶: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ جَمِیْعًا قَالَا : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ الطَّیَالِسِیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَاہٗ رَجُلَانِ یَخْتَصِمَانِ فِیْ أَرْضٍ .فَقَالَ أَحَدُہُمَا : اِنَّ ہٰذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ انْتَزَأَ عَلٰی أَرْضِہِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَہُوَ امْرُؤُ الْقِیسِ بْنُ عَائِشٍ الْکَنَدِیُّ وَخَصْمُہُ رَبِیْعَۃُ بْنُ عَبْدَانَ .فَقَالَ لَہٗ : بَیِّنَتُک فَقَالَ : لَیْسَ لِیْ بَیِّنَۃٌ قَالَ : یَمِیْنُہُ قَالَ : اِذًا یَذْہَبُ بِہَا قَالَ : لَیْسَ لَک اِلَّا ذٰلِکَ .فَلَمَّا قَامَ لِیَحْلِفَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ
٥٩٧٦: علقمہ بن وائل نے حضرت وائل بن حجر (رض) سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھا کہ دو آدمی حاضر ہوئے جو زمین کے متعلق باہمی جھگڑ رہے تھے ان میں سے ایک نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کیا اور وہ شخص امرء القیس بن عائش کندی تھا اور اس کا مخالف ربیعہ بن عبدان تھا آپ نے اس سے فرمایا پھر وہ قسم اٹھائے گا اس نے کہا اس طرح تو وہ زمین لے جائے گا۔ آپ نے فرمایا تمہارے لیے تو یہی ہے کہ (گواہ پیش کرو) جب قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ظلم کے طور پر کوئی زمین حاصل کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوں گے۔
تخریج : مسلم فی الایمان ٢٢٤‘ مسند احمد ٤؍٣١٧۔