۵۹۷۸: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ ہٰذَا غَلَبَنِیْ عَلٰی أَرْضٍ کَانَتْ لِی .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَلَمَّا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمِیْنُک أَوْ یَمِیْنُہُ لَیْسَ لَکُمْ فِیْہِ اِلَّا ذٰلِکَ دَلَّ عَلٰی أَنَّہٗ لَا یَسْتَحِقُّ شَیْئًا بِغَیْرِ الْبَیِّنَۃِ فَہٰذَا یَنْفِی الْقَضَائَ بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاہِدِ .وَالَّذِی ہُوَ أَوْلَی بِنَا أَنْ نَحْمِلَ وَجْہَ مَا اخْتَلَفَ فِیْہِ تَأْوِیْلُہُ مِنَ الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ عَلٰی مَا یُوَافِقُ ہٰذَا لَا عَلٰی مَا یُخَالِفُہُ .وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لَادَّعَیْ نَاسٌ دِمَائَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَہُمْ وَلٰـکِنَّ الْیَمِیْنَ عَلَی الْمُدَّعَیْ عَلَیْہِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الْیَمِیْنَ لَا یَکُوْنُ أَبَدًا اِلَّا عَلَی الْمُدَّعَیْ عَلَیْہِ وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ بِالْاِسْنَادِ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ہٰذَا الْکِتَابِ .وَأَمَّا النَّظَرُ فِیْ ہٰذَا فَاِنَّہٗ یُغْنِیْنَا عَنْ ذِکْرِ أَکْثَرِ فَسَادِ قَوْلِ الَّذِیْنَ ذَہَبُوْا اِلَی الْقَضَائِ بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاہِدِ .فَجَعَلُوْا ذٰلِکَ فِی الْأَمْوَالِ خَاصَّۃً دُوْنَ سَائِرِ الْأَشْیَائِ .فَلَمَّا ثَبَتَ أَنَّہٗ لَا یُقْضَی بِیَمِیْنٍ وَشَاہِدٍ فِیْ غَیْرِ الْأَمْوَالِ کَانَ حُکْمُ الْأَمْوَالِ فِی النَّظَرِ أَیْضًا کَذٰلِکَ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَقَدْ
٥٩٧٨: جندل بن والق نے ابوالاحوص سے پھر اس نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ حضرمی کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ میری زمین پر قابض ہوگیا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تیری قسم یا اس کی قسم کے علاوہ اس میں اور کوئی چیز تمہارے لیے نہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ دلیل کے علاوہ اور کسی چیز کا وہ حقدار نہیں ہے۔ یہ بات ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلے کی نفی کرتی ہے زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ اس روایت کا وہ مفہوم لیں جو دیگر روایات کے موافق ہے۔ وہ نہیں جو اس کے مخالف ہو۔ حالانکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر لوگوں کو ان کے فقط دعویٰ پردے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسرے آدمیوں کے خونوں اور اموال کے مدعی بن بیٹھیں گے۔ لیکن قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔ پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قسم ہمیشہ مدعیٰ علیہ پر ہوتی ہے یہ روایت اسناد کے ساتھ پہلے ذکر کر آئے۔ جہاں تک قیاس کا تعلق ہے فریق اول کے قول کے فاسد ہونے کے لیے قیاس کی ہم ضرورت نہیں سمجھتے کہ ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کردیا جائے کیونکہ انھوں نے بھی اس حکم کو اموال سے خاص کیا ہے (دوسرے امور میں وہ بھی جواز کے قائل نہیں) پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ غیر اموال میں قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا تو اب قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اموال کا حکم بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔