hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5978

.

الطحاوي

5978
Al Tahawi
۵۹۷۷: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ ہٰذَا قَدْ غَلَبَنِیْ عَلٰی أَرْضٍ کَانَتْ لِی .فَقَالَ الْکِنْدِیُّ : ہِیَ أَرْضِی فِیْ یَدِی أَزْرَعُہَا لَیْسَ لَہٗ فِیْہَا حَقٌّ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِیِّ أَلَکَ بَیِّنَۃٌ ؟ فَقَالَ : لَا .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأُحَلِّفُہٗ؟ فَقَالَ : اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ یَمِیْنٌ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ لَک مِنْہُ اِلَّا ذٰلِکَ .فَانْطَلَقَ لِیُحَلِّفَہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَا أَنَّہٗ اِنْ حَلَفَ عَلٰی مَالِکِ ظَالِمًا لِیَأْکُلَہٗ لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَنْہُ مُعْرِضٌ .
٥٩٧٧: علقمہ بن وائل نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضر موت کا ایک شخص اور ایک کندی شخص جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے حضرمی نے کہا۔ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نے میری زمین پر قبضہ جما لیا ہے۔ کندی نے کہا۔ وہ میری زمین ہے جو میرے قبضہ میں ہے میں اس کو کاشت کرتا ہوں اس کا اس میں کچھ بھی حق نہیں ہے۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے حضرمی ! تم گواہ رکھتے ہو۔ اس نے کہا نہیں جناب نبی اکررم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس سے قسم لے لو۔ حضرمی نے کہا اس کی قسم کا اعتبار نہیں۔
جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے لیے اس کی طرف سے یہی ہوسکتا ہے۔ وہ کندی قسم اٹھانے لگا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا سنو ! اگر یہ تمہارے مال کے متعلق اس کو ظلماً کھا جانے کے لیے (جھوٹی) قسم اٹھائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا وہ اس سے منہ موڑنے والا ہوگا۔
تخریج : مسلم فی الایمان ٢٢٣‘ ابو داؤد فی الایمان باب ١‘ والاقضیہ باب ٢٦‘ ترمذی فی الاحکام باب ١٢۔