hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5984

.

الطحاوي

5984
Al Tahawi
۵۹۸۲: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ الطَّیَالِسِیُّ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ الْمُزَنِیّ قَالَ : سَمِعْت کَہْمَسًا یَقُوْلُ : سَمِعْت عُمَرَ یَقُوْلُ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ أَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیْ أَحْمَدَ .فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ مَنْ شَہِدَ بِالشَّہَادَۃِ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلَہَا مَذْمُوْمٌ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ ہُوَ مَحْمُوْدٌ مَأْجُوْرٌ عَلٰی مَا کَانَ مِنْہُ مِنْ ذٰلِکَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ دَفْعِ مَا احْتَجَّ بِہٖ عَلَیْہِمْ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ حَتّٰی یَشْہَدَ الرَّجُلُ عَلَی الشَّہَادَۃِ لَا یُسْأَلَہَا وَحَتّٰی یَحْلِفَ عَلَی الْیَمِیْنِ لَا یُسْتَحْلَفُ .فَمَعْنٰی ذٰلِکَ أَنْ یَشْہَدَ کَاذِبًا أَوْ یَحْلِفَ کَاذِبًا لِأَنَّہٗ قَالَ حَتّٰی یَفْشُوَ الْکَذِبُ فَیَکُوْنَ کَذَا وَکَذَا .فَلَا یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ الَّذِیْ یَکُوْنُ اِذَا فَشَا الْکَذِبُ اِلَّا کَذِبًا وَاِلَّا فَلَا مَعْنَی لِذِکْرِہِ فَیَفْشُو الْکَذِبُ .وَاحْتَجَّ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِقَوْلِہِمْ أَیْضًا بِمَا
٥٩٨٢: کھمس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو فرماتے سنا پھر ابو بکرہ نے ابو احمد سے جس طرح روایت کی ہے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : فریق اول کا مؤقف ہے جس نے مطالبہ سے پہلے گواہی دی وہ قابل مذمت ہے اور اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں۔ دوسروں نے کہا طلب سے پہلے گواہی دینے والا صرف قابل تعریف ہی نہیں بلکہ وہ اس پر ماجور ہے۔ فریق اول کے مؤقف کا جواب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر جھوٹ پھیل جائے گا یہاں تک کہ آدمی ایک معاملے کی گواہی دے گا حالانکہ اس سے طلب نہ کی جائے گی اور وہ قسم اٹھائے گا حالانکہ اس سے قسم طلب نہ کی جائے گی اس ارشاد کا فمہوم یہ ہے کہ لوگ جھوٹی گواہی دیں گے یا جھوٹی قسمیں کھائیں گے کیونکہ آپ نے تو جھوٹ کے پھیلانے کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہوگا اور جھوٹ کا پھیلنا جھوٹ بولنے کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے۔ ورنہ فیشفوا الکذب کے تذکرہ کا کوئی مطلب نہیں۔ فریق اول نے اپنے قول کی حمایت میں ان روایات سے بھی استدلال کیا ہے۔
تخریج : روایت ٥٩٩٠ کی تخریج ملاحظہ ہو۔