hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6002

.

الطحاوي

6002
Al Tahawi
۶۰۰۰: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْیَمَانِ قَالَ : أَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِیْ حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِیْ سَاحَۃَ وَأُمَّہَا أُمُّ سَلَمَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ أُمَّہَا أُمُّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَلَبَۃَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِہٖ فَخَرَجَ اِلَیْہِمْ فَقَالَ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَاِنَّہٗ یَأْتِی الْخَصْمُ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُوْنَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِیَ لَہٗ بِذٰلِکَ وَأَحْسِبُ أَنَّہٗ صَادِقٌ فَمَنْ قَضٰیْتُ لَہٗ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَاِنَّمَا ہِیَ قِطْعَۃٌ مِنَ النَّارِ فَلْیَأْخُذْہَا أَوْ لِیَدَعْہَا .
٦٠٠٠: زینب نے اپنی والدہ امّ سلمہ (رض) سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو آپ ان لوگوں کی طرف تشریف لائے اور فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں اور میرے پاس جھگڑا کرنے والے آتے ہیں ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے زیادہ فصیح وبلیغ ہو اور میں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں اور میرے خیال میں وہ سچا ہو۔ فلہذا میں جس شخص کے لیے کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے پس اب وہ اس کو لے لے یا چھوڑ دے (اس پر موقوف ہے)
تخریج : بخاری فی المظالم باب ١٦‘ والاحکام باب ٢٩؍٣١‘ مسلم فی الاقضیہ ٥۔
فریق اول کا قول یہ ہے کہ حاکم اگر کسی چیز کو باطن کے مطابق خیال کر کے فیصلہ کر دے اور باطن اس کے خلاف ہو تو اس کا فیصلہ نافذ العمل نہ ہوگا اس قول کو امام ابو یوسف (رح) نے اختیار کیا ہے۔
فریق ثانی کا قول : حاکم جب بظاہر صحیح گواہی کے مطابق فیصلہ کر دے تو اس کا فیصلہ ظاہر و باطن میں نافذالعمل ہوگا اس قول کو امام ابوحنیفہ (رح) اور محمد (رح) نے اختیار کیا ہے۔