hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6001

.

الطحاوي

6001
Al Tahawi
۵۹۹۹: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جُمَیْعٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُو الطُّفَیْلِ قَالَ : أَقْبَلَ رَہْطٌ مَعَہُمْ امْرَأَۃٌ حَتّٰی نَزَلُوْا فَتَفَرَّقُوْا فِیْ حَوَائِجِہِمْ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَۃٍ فَرَجَعُوْا وَہُوَ بَیْنَ رِجْلَیْہَا فَشَہِدَ ثَلَاثَۃٌ مِنْہُمْ أَنَّہُمْ رَأَوْہُ یَہُبُّ کَمَا یَہُبُّ الْمِرْوَدُ فِی الْمُکْحُلَۃِ .وَقَالَ الرَّابِعُ : أَحْمِیْ سَمْعِی وَبَصَرِی لَمْ أَرَہُ یَہُبُّ فِیْہَا رَأَیْتُ سِخْتَلَیْہِ یَعْنِیْ خُصْیَتَیْہِ یَضْرِبَانِ اسْتَہَا وَرِجْلَاہَا مِثْلُ أُذُنَیْ حِمَارٍ .وَعَلَی مَکَّۃَ یَوْمَئِذٍ نَافِعُ بْنُ الْحَارِثِ الْخُزَاعِیُّ وَکَتَبَ اِلَی عُمَرَ .فَکَتَبَ عُمَرُ اِنْ شَہِدَ رَابِعٌ بِمِثْلِ مَا شَہِدَ الثَّلَاثَۃُ فَقَدِّمْہُمَا أَجْلِدْہُمَا وَاِنْ کَانَا مُحْصَنَیْنِ فَارْجُمْہُمَا وَاِنْ لَمْ یَشْہَدَا اِلَّا بِمَا کَتَبْتُ بِہٖ اِلَیَّ فَاجْلِدْ الثَّلَاثَۃَ وَخَلِّ سَبِیْلَ الرَّجُلِ .قَالَ : فَجَلَدَ الثَّلَاثَۃَ وَأَخْلَیْ سَبِیْلَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَۃِ .فَہٰؤُلَائِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ شَہِدَ بَعْضُہُمُ ابْتِدَائً وَقَبِلَہَا بَعْضُہُمْ وَحَضَرَ ذٰلِکَ أَکْثَرُہُمْ فَلَمْ یُنْکِرْ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی اتِّفَاقِہِمْ جَمِیْعًا عَلَی ہٰذَا الْمَعْنَی وَثَبَتَ أَنَّ مَعَانِیَ الْآثَارِ الْأُوَلِ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا مِنْ مَعَانِیْہَا الَّتِی وَصَفْنَاہَا فِیْ مَوَاضِعِہَا .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ .
٥٩٩٩: ولید بن عبداللہ نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابوالطفیل نے بیان کیا کہ ایک گروہ آیا اور ان کے ساتھ ایک عورت تھی یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر اترے اور اپنی اپنی ضروریات کے لیے چلے گئے ایک مرد عورت کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب وہ واپس لوٹے تو وہ اس کے دونوں پاؤں کے درمیان تھا ان میں سے تین نے گواہی دی کہ انھوں نے اسے اس طرح گھسا ہوا پایا جس طرح سلائی سرمہ دانی میں گھسی ہوئی ہوتی ہے چوتھے نے کہا میں اپنے کانوں اور آنکھوں کو صحیح خیال کرتا ہوں میں نے اسے گھسا ہوا نہیں دیکھا میں نے اس کے خصیتین کو دیکھا کہ وہ عورت کی سرین سے لگے ہوئے تھے اور اس کے پاؤں گدھے کے دو کانوں کی طرح تھے ان دنوں مکہ مکرمہ کے حاکم حضرت نافع بن حارث خزاعی (رض) تھے انھوں نے یہ معاملہ حضرت عمر (رض) کی طرف لکھ بھیجا۔ تو حضرت عمر (رض) نے جواب میں فرمایا اگر چوتھا آدمی بھی ان تینوں کی طرح گواہی دے تو ان دونوں کو لا کر کوڑے مارو اور اگر وہ دونوں شادی شدہ ہوں تو پھر ان کو سنگ سار کر دو اور اگر گواہی کی نوعیت وہی ہو جو تم نے تحریر کی ہے تو تینوں کو (تہمت کی وجہ سے) کوڑے لگاؤ اور اس مرد (اور عورت) کا راستہ چھوڑ دو ۔ راوی کہتے ہیں کہ ان تینوں کو کوڑے لگائے گئے اور مرد و عورت کا راستہ چھوڑ دیا گیا۔ یہ صحابہ کرام (رض) ہیں ان میں سے بعض ہیں جنہوں نے گواہی کی خود ابتداء کی اور بعض نے اس کو قبول کیا اور ان کی موجودگی میں یہ معاملہ ہوا مگر انھوں نے اعتراض نہیں کیا پس ان سب کا اتفاق اس معنی پر دلالت کرتا ہے اور اس سے پہلی روایات کے وہ معانی بھی ثابت ہوگئے جو ہم نے پہلے بیان کئے۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔