hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6008

.

الطحاوي

6008
Al Tahawi
۶۰۰۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أُسَامَۃُ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ کُلَّ قَضَائٍ قَضٰی بِہٖ حَاکِمٌ مِنْ تَمْلِیکِ مَالٍ أَوْ اِنَالَۃِ مِلْکٍ عَنْ مَالٍ أَوْ مِنْ اِثْبَاتِ نِکَاحٍ أَوْ مِنْ حِلِّہِ بِطَلَاقٍ أَوْ بِمَا أَشْبَہَہُ أَنَّ ذٰلِکَ کُلَّہٗ عَلٰی حُکْمِ الْبَاطِنِ وَأَنَّ ذٰلِکَ فِی الْبَاطِنِ کَہُوَ فِی الظَّاہِرِ وَجَبَ ذٰلِکَ عَلٰی مَا حَکَمَ بِہٖ الْحَاکِمُ .وَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ فِی الْبَاطِنِ عَلَی خِلَافِ مَا شَہِدَ بِہٖ الشَّاہِدَانِ وَعَلَی خِلَافِ مَا حَکَمَ بِہٖ بِشَہَادَتِہِمَا عَلَی الْحُکْمِ الظَّاہِرِ لَمْ یَکُنْ قَضَائُ الْقَاضِی مُوْجِبًا شَیْئًا مِنْ تَمْلِیکٍ وَلَا تَحْرِیْمٍ وَلَا تَحْلِیْلٍ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَمِمَّنْ قَالَ بِذٰلِکَ أَبُوْ یُوْسُفَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : مَا کَانَ مِنْ ذٰلِکَ مِنْ تَمْلِیکِ مَالٍ فَہُوَ عَلٰی حُکْمِ الْبَاطِنِ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَضٰیْتُ لَہٗ بِشَیْئٍ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ فَلَا یَأْخُذْہُ فَاِنَّمَا أَقْطَعُ لَہٗ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ .وَمَا کَانَ مِنْ ذٰلِکَ مِنْ قَضَائٍ بِطَلَاقٍ أَوْ نِکَاحٍ بِشُہُوْدٍ ظَاہِرُہُمُ الْعَدَالَۃُ وَبَاطِنُہُمُ الْجُرْحَۃُ فَحَکَمَ الْحَاکِمُ بِشَہَادَتِہِمْ عَلَی ظَاہِرِہِمْ الَّذِیْ تَعَبَّدَ اللّٰہَ أَنْ یَحْکُمَ بِشَہَادَۃِ مِثْلِہِمْ مَعَہُ فَذٰلِکَ یَحْرُمُ فِی الْبَاطِنِ کَحُرْمَتِہِ فِی الظَّاہِرِ .وَالدَّلِیْلُ عَلَی ہٰذَا مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمُتَلَاعِنَیْنِ .
٦٠٠٦: عبداللہ بن نافع الصائغ نے اسامہ بن زید پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ‘ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ حاکم جو بھی فیصلہ کرے اس سے کسی مال کا مالک بنانا ہو یا کسی مال سے ملک کو زائل کرنا ہو۔ نکاح کو ثابت کرنا یا طلاق کے ذریعہ نکاح کو فسخ کرنا ہو یا اس سے ملتا جلتا کوئی بھی حکم ہو۔ یہ تمام احکام باطن پر محمول ہوتے ہیں اور باطن میں بھی ظاہر کے مطابق ہوتے ہیں اس سے حاکم کا فیصلہ لازم ہوجاتا ہے اور اگر یہ باطن میں اس بات کے مخالف ہو جس کی گواہوں نے گواہی دی ہے اور جو ان کی گواہی پر بظاہراً فیصلہ ہوا ہے باطن میں بھی اس کے بھی خلاف ہوں تو قاضی کسی چیز کو واجب نہیں کرسکتا نہ تو وہ مالک بنا سکتا ہے اور نہ کسی چیز کو حلال و حرام قرار دے سکتا ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے اس قول کو اختیار کرنے والوں میں امام ابو یوسف (رح) بھی ہیں۔ فریق ثانی نے ان کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ جہاں تک مالک بنانے کے فیصلے کا تعلق ہے تو وہ باطل کے حکم پر ہوگا جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں جس شخص کے لیے اس کے بھائی کے حق سے فیصلہ کروں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔ البتہ جو معاملہ نکاح و طلاق سے متعلق ہو تو وہ ایسے گواہوں سے ثابت ہے جو ظاہر میں اصحاب عدل ہیں مگر ان کا باطن مجروح ہے اور حاکم ان کے ظاہر کو دیکھ کر گواہی پر فیصلہ کر دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں کی گواہی پر فیصلہ کرنے کا حکم فرمایا تو یہ باطن میں بھی اسی طرح قابل احترام ہوگا جیسے کہ ظاہر میں قابل احترام ہے۔ اس پر دلیل وہ روایت ہے جس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لعان کے سلسلہ میں نقل کیا گیا ہے۔
حدیث متلاعنین :