۶۰۰۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : فَرَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَخَوَیْ بَنِی الْعَجْلَانِ وَقَالَ لَہُمَا حِسَابُکُمَا عَلَی اللّٰہِ اللّٰہُ یَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ لَا سَبِیْلَ لَک عَلَیْہَا .قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَدَاقِی الَّذِی أَصْدَقْتُہَا ؟ قَالَ لَا مَالَ لَک عَلَیْہَا اِنْ کُنْتُ أَصَدَقْتُ عَلَیْہَا فَہُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتُ مِنْ فَرْجِہَا وَاِنْ کُنْتُ کَاذِبًا عَلَیْہَا فَہُوَ أَبْعَدُ لَک مِنْہُ
٦٠٠٧: سعید بن جبیر نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عجلان کے دو آدمیوں کے درمیان تفریق کردی اور ان کو فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (اے مرد) تمہارا اس عورت پر کوئی حق نہیں۔ اس نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے اس مال کا کیا بنے گا جو میں نے بطور مہر ادا کیا آپ نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے اس کے ذمہ اب کوئی مال نہیں۔ اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا تو وہ اس چیز کے بدلے میں ہے جو تم نے اس کی شرمگاہ کو اپنے حق میں حلال کیا اور اگر تو نے جھوٹ بولا ہے تو وہ تجھ سے بہت دور ہے۔
تخریج : بخاری فی الطلاق باب ٣٢؍٣٣‘ مسلم فی اللعان ٦؍٧‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ٢٧‘ نسائی فی الطلاق باب ٤٣‘ مسند احمد ٢؍٤۔