۶۰۱۱: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِیُّ قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ قَالَ : کُنْتُ بِمِصْرَ فَقَالَ لِیْ رَجُلٌ : أَلَا أَدُلُّک عَلٰی رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَذَہَبَ بِیْ اِلٰی رَجُلٍ فَقُلْتُ :مِمَّنْ أَنْتَ یَرْحَمُک اللّٰہٗ؟ فَقَالَ : أَنَا سُرَّقٌ فَقُلْتُ :رَحِمَک اللّٰہُ مَا یَنْبَغِی لَک أَنْ تُسَمَّی بِہٰذَا الْاِسْمِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمَّانِیْ سُرَّقًا فَلَنْ أَدَعَ ذٰلِکَ أَبَدًا .قُلْتُ :وَلِمَ سَمَّاک سُرَّقًا ؟ قَالَ : لَقِیَتْ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ بِبَعِیْرَیْنِ لَہٗ یَبِیْعُہُمَا فَابْتَعْتُہُمَا مِنْہُ وَقُلْتُ لَہٗ : انْطَلَقَ مَعِیْ حَتّٰی أُعْطِیَک فَدَخَلْتُ بَیْتِی ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ خَلَفٍ لِیْ وَقَضٰیْتُ بِثَمَنِ الْبَعِیْرَیْنِ حَاجَتِی وَتَغَیَّبْتُ حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنَّ الْأَعْرَابِیَّ قَدْ خَرَجَ .فَخَرَجَتْ وَالْأَعْرَابِیُّ مُقِیْمٌ فَأَخَذَنِیْ فَقَدَّمَنِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُہٗ الْخَبَرَ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَک عَلٰی مَا صَنَعْتُ؟ قُلْتُ :قَضٰیْتُ بِثَمَنِہِمَا حَاجَتِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .قَالَ فَاقْضِہِ قَالَ : قُلْتُ لَیْسَ عِنْدِی قَالَ أَنْتَ سُرَّقٌ اذْہَبْ بِہٖ یَا أَعْرَابِیُّ فَبِعْہُ حَتّٰی تَسْتَوْفِیَ حَقَّک .قَالَ : فَجَعَلَ النَّاسَ یَسُوْمُوْنَہُ فِیْ وَیَلْتَفِتُ اِلَیْہِمْ فَیَقُوْلُ : مَاذَا تُرِیْدُوْنَ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : نُرِیْدُ أَنْ نَبْتَاعَہُ مِنْکَ، فَنُعْتِقُہُ قَالَ : فَوَاللّٰہِ اِنْ مِنْکُمْ أَحَدٌ أَحْوَجُ اِلَیْہِ مِنِّیْ اذْہَبْ فَقَدْ أَعْتَقْتُک .
٦٠١١: زید بن اسلم نے عبدالرحمن بن بیلمانی سے روایت ہے کہ میں مصر میں تھا کہ ایک شخص نے مجھے کہا کیا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی کے بارے میں تمہاری راہنمائی نہ کروں پھر وہ مجھے ایک شخص کے پاس لے گیا میں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے آپ کون ہیں۔ انھوں نے کہا میں سرق ہوں میں نے کہا آپ پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ آپ کو یہ نام رکھنا مناسب نہ تھا۔ کیونکہ آپ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں انھوں نے فرمایا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام سرق رکھا ہے لہٰذا میں اسے کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا میں نے پوچھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کا نام سرق کیوں رکھا ہے انھوں نے فرمایا میں نے ایک دیہاتی شخص سے ملاقات کی اس کے پاس دو اونٹ تھے وہ انھیں بیچنا چاہتا تھا میں نے اس سے دونوں اونٹ خرید لیے اور اسے کہا کہ میرے ساتھ چل میں تجھے ادا کروں میں اپنے گھر میں داخل ہوا پھر میں اپنے مویشی خانہ کی طرف سے نکل گیا اور اونٹوں کی قیمت اپنی ضرورت پر خرچ کردی اور غائب ہوگیا یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ دیہاتی چلا گیا ہوگا تو میں باہر نکلا (دیکھا تو) دیہاتی کھڑا تھا اس نے مجھے پکڑا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے آیا میں نے آپ کو واقعہ عرض کردیا تو آپ نے فرمایا تمہیں اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے ان کی قیمت اپنی ضرورت میں خرچ کردی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا اسے ادا کر دو میں نے عرض کیا میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا تم سرق ہو۔ اے اعرابی ! اس کو لے جا کر فروخت کر دو حتیٰ کہ تم اپنا حق پورا وصول کرلو۔ اس پر صحابہ کرام میری بولی لگانے لگے اور وہ آدمی ان کی طرف دیکھتا تھا اور پوچھتا تھا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے تو وہ کہتے ہم اسے تم سے خریدنا چاہتے ہیں اس نے کہا اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ اس کی حاجت نہیں رکھتا جاؤ میں نے تمہیں آزاد کردیا۔
مقروض کو قرض خواہوں کے مطالبہ پر غلام بنا کر فروخت نہیں کیا جاسکتا اس کے پاس موجود مال کو ان پر تقسیم کردیا جائے گا اور بقیہ کے لیے وہ انتظار کریں۔