hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6014

.

الطحاوي

6014
Al Tahawi
۶۰۱۲: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ قَالَ : حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ : لَقِیْتُ رَجُلًا بِالْاِسْکَنْدَرِیَّۃِ یُقَالُ لَہٗ سُرَّقٌ فَقُلْتُ :مَا ہٰذَا الْاِسْمُ ؟ فَقَالَ : سَمَّانِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِمْت الْمَدِیْنَۃَ فَأَخْبَرْتُہُمْ أَنَّہٗ یَقْدُمُ لِیْ مَالٌ فَبَایَعُوْنِیْ فَاسْتَہْلَکْتُ أَمْوَالَہُمْ فَأَتَوْا بِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سُرَّقٌ فَبَاعَنِیْ بِأَرْبَعَۃِ أَبْعِرَۃٍ .فَقَالَ لَہٗ غُرَمَاؤُہُ : مَا یَصْنَعُ بِہٖ ؟ قَالَ أُعْتِقُہُ قَالُوْا : مَا نَحْنُ بِأَزْہَدَ فِی الْآخَرِ مِنْک فَأَعْتَقُوْنِی .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ بَیْعُ الْحُرِّ فِی الدَّیْنِ وَقَدْ کَانَ ذٰلِکَ فِیْ أَوَّلِ الْاِسْلَامِ یَبْتَاعُ مَنْ عَلَیْہِ دَیْنٌ فِیْمَا عَلَیْہِ مِنْ الدَّیْنِ اِذَا لَمْ یَکُنْ لَہٗ مَالٌ یَقْضِیْہِ عَنْ نَفْسِہِ حَتّٰی نَسَخَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذٰلِکَ فَقَالَ : وَاِنْ کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلَی مَیْسَرَۃٍ .وَقَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ فِی الَّذِی ابْتَاعَ الثِّمَارَ فَأُصِیْبَ بِہَا فَکَثُرَ دَیْنُہُ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوْا فَتَصَدَّقَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَبْلُغْ ذٰلِکَ وَفَائَ دَیْنِہٖ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُذُوْا مَا وَجَدْتُمْ وَلَیْسَ لَکُمْ اِلَّا ذٰلِکَ .وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ بِاِسْنَادِہِ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ کِتَابِنَا ہٰذَا .فَفِی قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِہِ لَیْسَ لَکُمْ اِلَّا ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنْ لَا حَقَّ لَہُمْ فِیْ بَیْعِہِ وَلَوْلَا ذٰلِکَ لَبَاعَہُ لَہُمْ کَمَا بَاعَ سُرَّقًا فِیْ دَیْنِہٖ لِغُرَمَائِہِ وَہٰذَا قَوْلُ أَہْلِ الْعِلْمِ جَمِیْعًا رَحِمَہُمُ اللّٰہُ .
٦٠١٢: زید بن اسلم کہتے ہیں کہ اسکندریہ میں ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی جس کو سرق کہتے تھے میں نے اس سے پوچھا یہ کیسا نام ہے اس نے کہا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا یہ نام رکھا ہے میں مدینہ منورہ میں آیا اور ان لوگوں کو بتلایا کہ میرے پاس مال آنے والا ہے۔ پس میرے ساتھ لین دین کرو۔ میں نے ان کا مال ہلاک کردیا (یعنی خرچ کر ڈالا) پھر وہ مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے آئے آپ نے فرمایا تم سرق ہو۔ آپ نے مجھے چار اونٹوں کے بدلے فروخت کردیا۔ اس (خریدنے والے) سے قرض خواہوں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا سلوک کرو گے اس نے کہا اسے آزاد کروں گا انھوں نے کہا ہم آخرت کے سلسلے میں تجھ سے زیادہ بےرغبت نہیں ہیں یعنی آخرت ہمیں بھی مطلوب ہے چنانچہ ان سب نے مجھے آزاد کردیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : اس روایت میں قرض کے بدلے آزاد کو فروخت کردینے کا تذکرہ ہے جو ابتداء اسلام میں جائز تھا۔ مقروض کو قرض کے بدلے فروخت کردیا جاتا تھا جبکہ اس کے پاس مال نہ ہوتا جس سے وہ قرض کی رقم ادا کرسکے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور فرمایا : ” وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ وان تصدقوا خیرلکم ان کنتم “ (البقرہ : ٢٨٠) کہ تنگدست کو خوشحالی تک مہلت دی جائے۔ اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے متعلق فیصلہ فرمایا جس نے پھل خریدے اور آفت سے وہ تباہ ہوگئے اور اس پر بہت قرض ہوگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے بھائی صدقہ کرو اس پر صدقہ کرنے کے باوجود اس کا قرض ادا نہ ہوسکا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو اس کے پاس ہے وہ لے لو اور اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہ ہوگا یہ روایت ہم پہلے اسناد کے ساتھ ذکر کر آئے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرض خواہوں کو یہ فرمایا کہ تمہارے لیے صرف یہی ہے اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اس کو فروخت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ اسے ان کی خاطر فروخت کردیتے جیسا کہ حضرت سرق کو قرض خواہوں کے لیے قرض میں فروخت کیا تھا۔ یہ تمام اہل علم کا قول ہے۔ اس باب میں امام طحاوی (رح) نے یہ ذکر کیا کہ مقروض کو قرض کے بدلے فروخت نہیں کرسکتے اس کے پاس موجود چیز قرض خواہوں کو بانٹ دی جائے گی وہ تنگدستی دور ہونے تک انتظار کریں۔