hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6016

.

الطحاوي

6016
Al Tahawi
۶۰۱۴: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ : ثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ جَدِّہٖ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ لِیْ مَالًا وَلِیْ وَلَدًا یُرِیْدُ أَنْ یَجْتَاحَ مَالِی .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْتَ وَمَالُک لِأَبِیک اِنَّ أَوْلَادَکُمْ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ أَوْلَادِکُمْ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ مَا کَسَبَہُ الْاِبْنُ مِنْ مَالٍ فَہُوَ لِأَبِیْھَاوَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : مَا کَسَبَ الْاِبْنُ مِنْ شَیْئٍ فَہُوَ لَہٗ خَاصَّۃً دُوْنَ أَبِیْھَا.وَقَالُوْا قَوْلُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہٰذَا لَیْسَ عَلَی التَّمْلِیکِ مِنْہُ لِلْأَبِ کَسْبُ الْاِبْنِ وَاِنَّمَا ہُوَ عَلٰی أَنَّہٗ لَا یَنْبَغِی لِلِابْنِ أَنْ یُخَالِفَ الْأَبَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ وَأَنْ تَجْعَلَ أَمْرَہُ فِیْہِ نَافِذًا کَأَمْرِہِ فِیْمَا یَمْلِکُ .أَلَا تَرَاہُ یَقُوْلُ أَنْتَ وَمَالُک لِأَبِیک فَلَمْ یَکُنْ الْاِبْنُ مَمْلُوْکًا لِأَبِیْھَابِاِضَافَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہُ فَکَذٰلِکَ لَا یَکُوْنُ مَالِکًا لِمَالِہِ بِاِضَافَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْہِ .
٦٠١٤: عمرو بن شعیب نے اپنے والد انھوں نے اپنے دادا سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک آدمی عرض کرنے لگا میرے پاس مال ہے اور میرا والد میرا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی سے ہے۔ پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھاؤ۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ جو بیٹا کمائے وہ اس کے باپ کا مال ہے اور انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے۔ دوسرے فریق کا مؤقف یہ ہے کہ بیٹا جو کمائے وہ صرف اسی کا ہوگا باپ کا نہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کا مطلب بیٹے کی کمائی کا والد کو مالک بنانا نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو مناسب نہیں ہے کہ وہ اس مال کے متعلق باپ کے کسی حکم کی مخالفت کرے۔ بلکہ اسے اس کا حکم اس میں نافذ کرنا چاہیے جیسا کہ وہ اپنی ملکیت میں حکم نافذ کرتا ہے۔ ذرا غور تو فرمائیں کہ آپ نے فرمایا تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس نسبت کرنے سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ بیٹا باپ کا مملوک بن جاتا ہے۔ اسی طرح اس اضافت سے وہ مال کا بھی مالک نہ بنے گا۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٧٧‘ نسائی فی البیوع باب ١‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٦٤‘ مسند احمد ٢؍٢١٤‘ ٦‘ ٤١؍٢٠١۔
مفہوم نسبت کی مزید وضاحت :