hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6017

.

الطحاوي

6017
Al Tahawi
۶۰۱۵: وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا نَفَعَنِیْ مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِیْ مَالُ أَبِیْ بَکْرٍ .فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : اِنَّمَا أَنَا وَمَالِیْ لَک یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .فَلَمْ یُرِدْ أَبُوْبَکْرٍ بِذٰلِکَ أَنَّ مَالَہٗ مِلْکٌ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دُوْنَہُ وَلٰـکِنَّہٗ أَرَادَ أَنَّ أَمْرَہُ یَنْفُذُ فِیْہِ وَفِیْ نَفْسِہٖ۔ فَکَذٰلِکَ قَوْلُہٗ أَنْتَ وَمَالُک لِأَبِیک فَہُوَ عَلَی ہٰذَا الْمَعْنَی أَیْضًا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَرُمَ أَمْوَالُ الْمُسْلِمِیْنَ کَمَا حَرُمَ دِمَاؤُہُمْ وَلَمْ یُسْتَثْنَ فِیْ ذٰلِکَ وَالِدًا وَلَا غَیْرَہُ .فَمِمَّا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ
٦٠١٥: ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا کہ ابوبکر (رض) کے مال نے فائدہ دیا تو اس پر ابوبکر (رض) کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اور میرا مال آپ ہی کا ہے۔ اس سے حضرت ابوبکر (رض) کی مراد یہ نہیں کہ ان کا مال ان کی ملکیت سے نکل کر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملکیت میں داخل ہوگیا اور ان کی اپنی ملک اس پر نہیں رہی۔ بلکہ اس کا صاف مطلب یہی ہے آپ کا حکم اس مال اور جان میں نافذ ہے۔ اسی طرح جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے۔ کا بھی یہی مفہوم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے مال کو اسی طرح قابل احترام قرار دیا جیسا کہ ان کے خون کو قابل عزت قرار دیا اور اس سلسلے میں والد وغیرہ کو مستثنیٰ نہیں فرمایا۔ حرمت مال و خون کی روایات یہ ہیں۔
تخریج : ابن ماجہ فی المقدمہ باب ١١‘ مسند احمد ٢‘ ٢٥٣؍٣٦٦۔