۶۰۳۵: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَوْفُ بْنُ أَبِیْ جَمِیْلَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضٰی فِیْ رَجُلٍ ادَّعَاہُ رَجُلَانِ ، کِلَاہُمَا یَزْعُمُ أَنَّہٗ ابْنُہٗ، وَذٰلِکَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ .فَدَعَا عُمَرُ أُمَّ الْغُلَامِ الْمُدَّعَی ، فَقَالَ أُذَکِّرُک بِاَلَّذِیْ ہَدَاک لِلْاِسْلَامِ ، لِأَیِّہِمَا ہُوَ ؟ .قَالَتْ : لَا وَالَّذِیْ ہَدَانِیْ لِلْاِسْلَامِ ، مَا أَدْرِی لِأَیِّہِمَا ہُوَ ؟ أَتَانِیْ ہٰذَا أَوَّلَ اللَّیْلِ ، وَأَتَانِیْ ہٰذَا آخِرَ اللَّیْلِ ، فَمَا أَدْرِی لِأَیِّہِمَا ہُوَ ؟ .قَالَ : فَدَعَا عُمَرُ مِنَ الْقَافَۃِ أَرْبَعَۃً ، وَدَعَا بِبَطْحَائَ فَنَثَرَہَا ، فَأَمَرَ الرَّجُلَیْنِ الْمُدَّعِیَیْنِ فَوَطِئَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بِقَدَمٍ ، وَأَمَرَ الْمُدَّعَی فَوَطِئَ بِقَدَمٍ ، ثُمَّ أَرَاہُ الْقَافَۃَ قَالَ : اُنْظُرُوْا فَاِذَا أَتَیْتُمْ فَلَا تَتَکَلَّمُوْا ، حَتّٰی أَسْأَلَکُمْ قَالَ : فَنَظَرَ الْقَافَۃُ ، فَقَالُوْا : قَدْ أَثْبَتْنَا ، ثُمَّ فَرَّقَ بَیْنَہُمْ ، ثُمَّ سَأَلَہُمْ رَجُلًا رَجُلًا قَالَ : فَتَقَادَعُوْا ، یَعْنِیْ فَتَبَایَعُوْا ، کُلُّہُمْ یَشْہَدُ أَنَّ ہٰذَا لَمِنْ ہٰذَیْنِ .قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : یَا عَجَبًا لِمَا یَقُوْلُ ہٰؤُلَائِ ، قَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّ الْکَلْبَۃَ تُلَقَّحُ بِالْکِلَابِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ ، وَلَمْ أَکُنْ أَشْعُرُ أَنَّ النِّسَائَ یَفْعَلْنَ ذٰلِکَ قَبْلَ ہٰذَا، اِنِّیْ لَا أَرُدُّ مَا یَرَوْنَ ، اذْہَبْ فَہُمَا أَبَوَاک .
٦٠٣٥: ابوالمہلب سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک ایسے لڑکے متعلق فیصلہ فرمایا جس کے متعلق دو آدمی دعویدار تھے ان میں سے ہر ایک اسے اپنا بیٹا خیال کرتا تھا اور یہ زمانہ جاہلیت کا عمل تھا۔ حضرت عمر (رض) نے اس لڑکے کی ماں کو بلایا اور فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تجھے اسلام کی ہدایت بخشی۔ یہ لڑکا ان میں سے کس کا ہے اس نے کہا مجھے اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی میں نہیں جانتی کہ وہ ان میں سے کس کا ہے۔ یہ شخص میرے پاس رات کے پہلے حصہ میں آیا اور وہ شخص رات کے پچھلے حصہ میں آیا پس مجھے معلوم نہیں یہ کس کا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے چار قیافہ شناسوں کو بلایا پھر کنکریاں منگوا کر ان کو پھیلا دیا پھر دونوں دعویٰ کرنے والوں کو حکم دیا کہ وہ ان کنکریوں پر اپنا قدم رکھ کر ان کو روندیں پھر جس بچے پر دعویٰ تھا اس کو حکم دیا کہ وہ کنکریوں کو روندے اس نے بھی روندا۔ پھر قیافہ شناسوں نے اسے دیکھا پھر فرمایا اس کو دیکھو لیکن جب واپس لوٹو تو اس وقت کلام مت کرو۔ جب تک میں کلام نہ کروں اور سوال نہ کروں۔ راوی کہتے ہیں کہ قیافہ شناسوں نے دیکھا تو کہنے لگے ہم سمجھ گئے۔ ہم نے محفوظ کرلیا پھر ان کو جدا کر کے ایک ایک سے دریافت کیا۔ راوی کا بیان ہے وہ سب اس پر متفق ہوگئے اور ہر ایک نے گواہی دی کہ یہ لڑکا ان دونوں کا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں یہ بڑا عجیب ہے میں جانتا تھا کہ کتیا بہت سے کتوں سے حاملہ ہوتی ہے لیکن اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں۔ ان کی رائے کو رد نہ کروں گا۔ جاؤ یہ دونوں تمہارے باپ ہیں۔