۶۰۳۷: مَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ مَوْلًی لِبَنِیْ مَخْزُوْمَۃَ قَالَ : وَقَعَ رَجُلَانِ عَلٰی جَارِیَۃٍ فِیْ طُہْرٍ وَاحِدٍ ، فَعَلِقَتِ الْجَارِیَۃُ ، فَلَمْ یُدْرَ مِنْ أَیِّہِمَا ہُوَ .فَأَتَیَا عُمَرَ یَخْتَصِمَانِ فِی الْوَلَدِ فَقَالَ عُمَرُ : مَا أَدْرِیْ کَیْفَ أَقْضِی فِیْ ہٰذَا ؟ .فَأَتَیَا عَلِیًّا ، فَقَالَ : ہُوَ بَیْنَکُمَا ، یَرِثُکُمَا وَتَرِثَانِہٖ، وَہُوَ لِلْبَاقِی مِنْکُمَا .فَہٰذَا حُکْمٌ بِالْوَلَدِ لِمُدَّعِیَیْہِ جَمِیْعًا ، فَجَعَلَہٗ ابْنَہُمَا ، وَلَمْ یَحْتَجْ فِیْ ذٰلِکَ اِلَی قَوْلِ الْقَافَۃِ ، وَبِہٰذَا نَأْخُذُ .وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ .
٦٠٣٧: سماک نے مولی بنی مخزومہ سے روایت کی ہے کہ دو آدمی ایک لونڈی پر ایک ہی طہر میں جا پڑے لونڈی حاملہ ہوگئی یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کس کا ہے وہ دونوں بچے کے متعلق جھگڑا لے کر حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عمر (رض) نے فرمایا مجھے معلوم نہیں میں ان کے مابین کیسے فیصلہ کروں تم دونوں علی (رض) کے پاس جاؤ وہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے فرمایا وہ بچہ تم دونوں کے درمیان مشترک ہے وہ تمہارا وارث ہوگا اور تم دونوں میں سے بعد میں زندہ رہنے والے کے لیے اس کی وراثت ہے۔ یہ اس بچے کا حکم ہے جس کے متعلق دونوں دعویٰ رکھتے ہوں کہ اس کو دونوں کا بیٹا قرار دیا اور انھوں نے قیافہ شناسوں کی کوئی ضرورت نہ سمجھی۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
حاصل کلام : یہ اس بچے کا حکم ہے جس کے متعلق دونوں دعویٰ رکھتے ہوں کہ اس کو دونوں کا بیٹا قرار دیا اور انھوں نے قیافہ شناسوں کی کوئی ضرورت نہ سمجھی۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
اس میں امام طحاوی (رح) نے فریق ثانی کے قول کو ترجیح دی کہ اگر دو دعویدار ہوں تو وہ دونوں کا بیٹا ہوگا اس میں قیافہ شناسوں کی محتاجی نہ ہوگی اور وہ دونوں کا وارث ہوگا اور ان میں بعد والا اس کا وارث ہوگا۔