hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 6040

.

الطحاوي

6040
Al Tahawi
۶۰۳۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ، عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَکَ رَجُلٌ مَالَہٗ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖ مِنْ غَیْرِہِ .
٦٠٣٨: ابوبکر بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آدمی مفلس ہوجائے پھر فروخت کرنے والا آدمی اپنا مال اسی حالت میں پائے تو وہ اس کا دوسرے قرض خواہوں کی بنسبت زیادہ حقدار ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٧٤‘ مالک فی البیوع ٨٨۔
سامان خرید کر قبضہ کیا قیمت ادا نہ کی تھی کہ پہلے مرگیا تو ایک فریق علماء کا قول یہ ہے کہ فروخت کرنے والا اس سامان کا دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ حقدار ہے۔
فریق ثانی کا قول : تمام قرض خواہ مرنے والے کے تمام مال میں برابر حق رکھتے ہیں اگرچہ اس کی خریداری کے سامان میں خریدا ہوا سامان بعینہٖ باقی ہے اس قول کو ائمہ احناف رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے۔